نکاح

والدین کا نکاح میں تاخیر کرنے کی وجہ سے چھپ کر نکاح کرنے کا حکم

فتوی نمبر :
70394
| تاریخ :
2024-01-18
معاملات / احکام نکاح / نکاح

والدین کا نکاح میں تاخیر کرنے کی وجہ سے چھپ کر نکاح کرنے کا حکم

لڑکا اور لڑکی دونوں پہلے ساتھ کام کرتے تھے ، اور لڑکے کے گھر والے پسند کی شادی، بلکہ لڑکے کی شادی کے حق میں ہی نہیں تھے کہ ابھی 2 یا 3 سال انتظار کرو، اس کے بعد دیکھا جائے گا، ہر طریقہ سے سمجھانے کے بعد لڑکے کے ماں باپ مان گئے اور لڑکی کے گھر بھی جاچکے ، رشتہ لے کر، لیکن شادی کی تاریخ 6-7 ماہ بعد کی رکھی ہے ، اس پورے معاملے کو تقریباً سال سے زیادہ ہوگیا ہے ، لڑکا اور لڑکی بار بار اصرار کرتے رہے کہ کم از کم نکاح کی اجازت دے دیں ، تاکہ ایک مسلسل گناہ سے بچ سکیں ، لڑکے کے ماں باپ بضد ہیں کہ وہ اپنے حج سے فارغ ہو کر ہی کچھ اس بارے میں سوچیں گے ، ہر طریقہ سے سمجھانے کے بعد بھی جو رسپانس آتا ہے، وہ یہ ہے کہ اگر اتنی جلدی ہے تو خود کرلو جاکر ، اور ہم سے تمہارا واسطہ ختم ، نکاح اور ولیمہ کے لئے تمام اخراجات کرنے ہیں اور الگ الگ گھر کر کے دینا ہے ، وہ سب لڑکا کرنے کے لئے تیار ہے ، اور اس میں خود کفیل ہے الحمدللہ، اس سلسلہ میں کیا لڑکا لڑکی کو اجازت ہے کہ وہ نکاح کرلیں ، اور بعد میں جب بھی وقت طے ہو دوبارہ نکاح ، ولیمہ اور تمام لوازمات کرلیں 6 سے 7 مہینے بعد، اگر اس کی اجازت ہے تو اس کے لئے کیا کرنا پڑے گا؟ اور اس سارے معاملے میں لڑکی کے ولی کا کردار کہاں آتا ہے؟ کیا ایک دفعہ نکاح کرکے دوبارہ پبلک میں نکاح کیا جاسکتا ہے ؟ اور کیا لڑکی کا ولی اگر نکاح میں شامل نہ ہو اور صرف 2 گواہوں کی موجودگی میں نکاح ہو تو کیا نکاح درست ہوگا؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

سوال میں ذکر کردہ وضاحت کے مطابق جب لڑکا لڑکی کے والدین اس رشتہ پر راضی ہیں تو رشتہ طے ہوجانے کے بعد بر وقت نکاح کرلینا چاہیئے، تاہم فی الوقت اگر دونوں کے والدین نکاح کرنے پر آمادہ نہ ہوں تو لڑکا لڑکی کو بھی چاہیئے کہ بے صبری کا مظاہرہ نہ کریں، بلکہ انہیں اعتماد میں لے کر باقاعدہ ان کی اجازت سے اعلانیہ نکاح کرنے کا اہتمام کریں، تاہم نکاح سے قبل چونکہ یہ لڑکا اور لڑکی ایک دوسرے کے لئے نا محرم ہیں، اس لئے باہم بے تکلفی اختیار کرنے اور میل جول رکھنے سے حتی الامکان اجتناب کریں، جبکہ اگر دونوں کو گناہ میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو تو کثرت سے روزے رکھنے کا اہتمام کریں، لیکن ایسا کوئی قدم ہرگز نہ اٹھائیں کہ جس سے اپنی اور اپنے والدین کی بدنامی اور رسوائی ہو۔

مأخَذُ الفَتوی


واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70394کی تصدیق کریں
0     986
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات