نکاح

ہنسی مذاق میں کئے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
70459
| تاریخ :
2024-01-21
معاملات / احکام نکاح / نکاح

ہنسی مذاق میں کئے ہوئے نکاح کا حکم

میری دوست اور اس کا کزن مذاق میں نکاح کر بیٹھیں ہیں ، اپنے دو مرد دوستوں کی موجودگی میں ،ان کو علم نہیں تھا کہ مذاق میں نکاح ہو جاتا ہے، جب علم ہوا تو میری دوست نے اپنے کزن سے رابطہ کیا اور اسے سارے معاملے کے بارے میں بتایا ،اس کے کزن نے کہا کہ ایسا کچھ نہیں ہوا تھا، لیکن میری دوست کو یقین تھا کہ ایسا کچھ ہوا ہے۔ اس نے اپنے کزن سے کہا کہ وہ اس کو طلاق دے دے ۔ پہلے تو اس کے کزن نے کہا کہ جب ایسا کچھ ہوا ہی نہیں تو طلاق کیوں دے۔ بہت اصرار کرنے پر اس کے کزن نے کہا "ٹھیک ہے، دی آپ کو"۔ یہ ساری گفتکو واٹس ایپ (Whatsapp) پر ہوئی تھی، میسج پر۔
ہمارا پہلا سوال یہ ہے کہ کیا طلاق ہو گئی ہے؟ دوسرا یہ کہ میری دوست اور اس کا کزن ایک بار اکیلے میں مل چکے ہیں نکاح کے بعد لیکن اس وقت ان دونوں کو نکاح کا علم نہیں تھا اور وہ دونوں صرف کچھ بات کرنے کے لیے ملے تھے ان دونوں کے درمیان میں کچھ نہیں ہوا تھا کیونکہ وہ دونوں ایک دوسرے کو میاں بیوی تصور نہیں کرتے تھےلیکن خلوت تھی۔ میری دوست کا نکاح ہے کچھ ہفتوں میں ، ویسے تو اس نے اپنی عدت پوری کر لی ہے لیکن میری دوست کے دل میں یہ خوف ہے کہ کہیں اس کے کزن نے رجوع نہ کر لیا ہو ، حالانکہ اس کا کزن تو نکاح کو ماننے کے لئے تیار ہی نہیں تھا تو وہ رجوع کیوں کرے گا لیکن پھر بھی اس کے دل میں یہ خوف بیٹھا ہوا ہے ، کیا وہ کسی دوسرے جگہ نکاح کر سکتی ہے؟ اس کا جو نکاح اب ہونے جا رہا ہے کیا وہ جائز ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ لڑکا و لڑکی کا اس طرح چلتے پھرتے مزاح کرتے ہوئے آپس میں نکاح کرنا ، نکاح جیسے مہتم بالشان شرعی حکم کو کھیل کود کا ذریعہ بنانے کے مترادف ہونے کی وجہ سے انتہائی قبیح فعل ہے ، جس سے احتراز لازم ہے ، تاہم سائلہ کی دوست اور کزن نے دو عاقل بالغ مردوں کے موجود گی میں باقا عدہ ایجاب و قبول ( خواہ مزاق میں ہی کیوں نہ ہوں) کرتے ہوئے نکاح کیا ہو، اور وہ دونوں با ہم کفو بھی ہوں، تو ایسی صورت میں یہ نکاح شرعاً بھی منعقدہو کر درست ہوا تھا، جس کے بعد مذکور لڑکا ولڑکی تنہائی میں اگر اس طور پر ملے ہوں کہ انہیں باہمی نکاح کے منعقد ہونے کا علم ہی نہ ہو، تو اس سے ان کے درمیان چونکہ خلوتِ صحیحہ نہیں پائی گئی، لہذا سائلہ کی دوست کے مطالبہ طلاق کے جواب میں اگر واقعۃ مذکور کزن نے مذکور الفاظ "ٹھیک ہے دی آپ کو" کہہ دیے ہوں ، تو اس سے سائلہ کی دوست پر طلاق بائن واقع ہو کر متعاقدین (لڑکا ولڑکی) کانکاح ختم ہو چکا ہے ، اور لڑکے کو رجوع کا حق بھی حاصل نہیں تھا ، چنانچہ اب سائلہ کی دوست کسی دوسری جگہ نکاح کرنا چاہے ، تو اس کا اسے اختیار ہے ، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ۔

مأخَذُ الفَتوی

كما في سنن أبي داود : عن أبي هريرة رضي الله عنه أن رسول الله صل الله عليه و سلم قال : ثلاث جدهن جد و هزلهن جد : النكاح والطلاق والرجعة ( باب في الطلاق على الهزل ، ص ٤٩٣ ، رقم : ٢١٩٤ ، ط : مؤسسة الرسالة )-
و في إعلاء السنن : قال أبو حنيفة رح : في نكاح اللعب والهزل أنه جائز كما يجوز نكاح الجد ( باب لعب النكاح وجده سواء، ج ۱۱، ص۱۳۳، ط: ادارة القران،كراتشي )-
وفي فتاوى الهندية : إذا طلق الرجل امرأته ثلاثا قبل الدخول بها وقعن عليها فإن فرق الطلاق بانت بالأولى ولم تقع الثانية والثالثة الخ ( كتاب الطلاق، الفصل الرابع في الطلاق قبل الدخول ، ج۲، ص۲۳۷، ط: رشيدية) –
وفيها أيضا : امرأة قالت لزوجها : "مرا طلاق ده " ( أعطني الطلاق ) فقال الزوج: "داده وكرده كير" أو قال "داده باد و کرده باد" (افرضي أنه أعطى و فعل (أو قال) ليكن معطى أو ليكن فعل إن نوى يقع ويكون رجعيا وإن لم ينوى لا يقع، ولو قال : "داده است او كره است " ( اعطى أو فعل ) يقع، نوى أولم ينوى الخ ) الفصل السابع في الطلاق بالألفاظ الفارسية ،ج ۲، ص۲۵۹، ط: رشيدية )-
و في فتاوى قاضي خان : ولو دخلت على الرجل امرأته ولم يعرفها أو دخل الرجل على امرأته فمكث ساعة ثم خرج ولم يعرفها اختلفوا فيه قال الفقيه أبو الليث رحمه الله : لا يكون خلوة ويصدق أنه لم يعرفها الخ ( فصل في الخلوة وتأكد المهر، ج ۲ ص79،ط: رشيدية)-

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد عبدالمجید نور عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70459کی تصدیق کریں
0     1878
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات