السلام علیکم ! میرا سوال یہ ہے کہ میری شادی کو چار سال ہو گئے ہیں ، اور شادی کے ٹائم پر مجھے بیوی سمجھ آ گئی تھی ، اور ان کے گھر والے، شادی کے بعد ان کے گھر کے مسئلے مسائل پتا چلے ، جیسا کہ ان کا بھائی فراڈ کے کام میں ملوث تھا ، جس کی وجہ سے میری میرے بھائیوں کے سامنے بہت بدنامی ہوئی ، اور بعد میں بیوی کی بہن کا ایسا ہی کچھ پتا چلا ، اب میں بیوی کو جب منع کرتا ہوں تو وہ ان کی طرف داری کرتی ہے ، اور یہ بھی بولتی ہے کہ میرا خونی رشتہ ہے ،میں ایسے ملنا کم نہیں کر سکتی ، اور مجھے اب اپنی بیوی اچھی نہیں لگتی ، اور میں اسی میں کنفیوز ہوں کہ بیوی کو چھوڑ دوں ، اور کبھی کبھی طلاق کا بھی ذہن میں آتا ہے ، کیا طلاق کا سوچنے سے بھی طلاق ہو جاتی ہے ، اور میرا یہ مسئلہ بھی ہے میں سوچتا بہت ہوں ، میری اس حوالے سے رہنمائی کریں ، چھوڑ دینا چاہیئے یا کیا کرنا چاہیئے ؟
واضح ہو کہ محض سوچنے سے طلاق واقع نہیں ہوتی ، لہذا سائل کو چاہیئے کہ بیوی کے بھائی بہنوں کی وجہ سے بیوی کو طلاق نہ دے اور سائل کے بھائیوں کا بھابھی کے بہن بھائیوں کے غلط کاموں کی وجہ سے اپنے بھائی کو الزام دینا یا اس کو تنگ کرنا درست نہیں جس سے احتراز لازم ہے۔
کما فی رد المحتار تحت : ( قولہ و رکنہ لفظ مخصوص ) ھو ماجعل دلالۃ علی معنی الطلاق من صریح أو کنایۃفخرج الفسوخ علی ما مر ، و اراد اللفظ و لو حکما لیدخل الکتابۃ المستبینۃ و اشار الأخرس و الارشاد الی العدد بالأصابع فی قولہ انت طالق ھکذا کما سیأتی ، و بہ ظھر أن من تشاجر مع زوجتہ فأعطاھا ثلاثۃ احجار ینوی الطلاق و لم یذکر لفظا لا صریحا و لا کنایۃ لا یقع علیہ کما أفتی بہ الخیر الرملی وغیرہ ( کتاب الطلاق ، ج 3 ، ص 230 ، ط : سعید ) ۔