محترم جناب مفتی صاحب ! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! بعد از سلام عرض یہ ہے کہ سید ہاشمی اگر ان کے گھروں میں فاقے پڑ رہے ہوں ، تو ایسی صورت میں ان کو زکوٰۃ دی جاسکتی ہے یا نہیں ؟ فتوٰی صادر کرکے دل کو مطمئن فرمائیں ۔
سادات سے تعلق رکھنے والا شخص اگرچہ فقر و فاقے کا شکار ہو ، تب بھی انہیں زکوٰۃ کی رقم نہیں دی جاسکتی ، البتہ نفلی صدقات اور ہدایا وغیرہ کے ذریعے ان کے ساتھ تعاون کیا جاسکتا ہے ۔
کمافی صحیح مسلم: عن عبدالمطلب بن ربیعۃ بن الحارث رضی اللہ عنھما قال: إن الصدقة لا تنبغي لآل محمد إنما هي أوساخ الناس، وفی روایۃ: إن ھذہ الصدقات إنما ھی أوساخ الناس، وإنھا لاتحل لمحمد ﷺ ولا لآل محمد ﷺ اھ (ج2، صـــ699، ط:بشرٰی)۔
وفی التنویر مع الدر: (و) لا إلى (بني هاشم) (و) لا إلى (مواليهم) أي عتقائهم فأرقاؤهم أولى لحديث «مولى القوم منهم» (وجازت التطوعات من الصدقات) اھ (ج2، صـــ350، ط:سعید)۔
وفی الشامیۃ: تحت: (قوله: إطلاق المنع إلخ) يعني سواء في ذلك كل الأزمان وسواء في ذلك دفع بعضهم لبعض ودفع غيرهم لهم، (قوله: وجازت التطوعات إلخ) قيد بها ليخرج بقية الواجبات كالنذر والعشر والكفارات وجزاء الصيد اھ (ج2، صـــ351، ط:سعید)۔
وفی البحر الرائق: (قوله وبني هاشم ومواليهم) أي لا يجوز الدفع لهم لحديث البخاري «نحن أهل بيت لا تحل لنا الصدقة» ولحديث أبي داود «مولى القوم من أنفسهم، وإنا لا تحل لنا الصدقة» (الی قولہ) وقيده المصنف في الكافي تبعا لما في الهداية وشروحها بآل علي وعباس وجعفر وعقيل وحارث بن عبد المطلب ومشى عليه الشارح الزيلعي والمحقق في فتح القدير اھ (ج2، صـــ246، ط:ماجدیہ)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0