میری چچی (بیوہ ) کے پاس ڈیڑھ تولہ سونا ہے ، ان کے پاس ذریعہ معاش کوئی نہیں ،کیا انہیں زکوٰۃ دی جاسکتی ہے ؟
سائل کی چچی کی ملکیت میں اگر مذکور ڈیڑھ تولہ سونے کے علاوہ چاندی ، مال تجارت،نقدی (خواہ ایک روپیہ ہی کیوں نہ ہو ) اور ضرورت سے زائد سامان نہ ہو اور وہ سیدہ بھی نہ ہو تو وہ مستحق زکوٰۃ ہے ، لہذاان کو زکوٰۃ دینا شرعاً جائز ہے ، لیکن چونکہ آج کل عموماً ہر ایک کے پاس تھوڑی بہت رقم موجود ہوتی ہے، اس لئے زکوٰۃ دینے سے پہلے تحقیق کرلی جائے ، چنانچہ اگر ان کی ملکیت میں کچھ روپے ( پانچ یا دس روپے ) بھی ہوں تو ان کو زکوٰۃ دینا شرعاًجائز نہیں ، بلکہ اس صورت میں خود ان پر زکوٰۃ لازم ہوگی ۔
کما فی الدرالمختار: أي مصرف الزكاة والعشر،(الی قولہ) (هو فقير، وهو من له أدنى شيء) أي دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة.الخ ( ج2 ص 339 باب المصرف ط سعید)۔ واللہ اعلم
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0