نکاح

خلوت سے پہلے طلاق کی صورت میں تجدیدِ نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
70710
| تاریخ :
2024-02-05
معاملات / احکام نکاح / نکاح

خلوت سے پہلے طلاق کی صورت میں تجدیدِ نکاح کا حکم

اگر لڑکا اور لڑکی کا نکاح ہوا ہے اور ابھی رخصتی نہیں ہوئی ہے، شوہر بیوی کو ایک طلاق دے ، تو کیا طلاق ہو جاتی ہے؟ کیا اب دوبارہ نکاح کرنا ہوگا ؟ اور نکاح کی تجدید کتنے وقت میں کرسکتے ہیں ؟ تین مہینے کے اندر نکاح کی تجدید کرنی ہوگی یا کبھی بھی کر سکتے ہیں؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ خلوتِ صحیحہ سے قبل منکوحہ کو طلاق دینے سے اس پر طلاقِ بائن واقع ہوکر میاں بیوی کا نکاح ختم ہوجاتا ہے اور عورت فی الفور دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہوتی ہے، تاہم اگر سابق شوہر کے ساتھ رہنا چاہے تو کسی بھی وقت شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے حق مہر کے تقرر کے ساتھ باضابطہ ایجاب و قبول کرتے ہوئے تجدیدِ نکاح کرکے ساتھ رہ سکتے ہیں، البتہ اس تجدیدِ نکاح کے بعد شوہر کو آئندہ فقط دو طلاقوں کا اختیار ہوگا، اس لئے طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (وإن فرق) بوصف أو خبر أو جمل بعطف أو غيره (بانت بالأولى) لا إلى عدة (و) لذا (لم تقع الثانية) الخ ( باب طلاق غیر المدخول بھا ج 3 ص 286 ط: سعید)۔
وفی البحر الرائق: (قوله: طلق غير المدخول بها ثلاثا وقعن) سواء قال أوقعت عليك ثلاث تطليقات أو أنت طالق ثلاثا ولا خلاف في الأول كما في فتح القدير الخ ( فصل فی الطلاق قبل الدخول ج 3 ص 314 )۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد مبارز الیاس عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 70710کی تصدیق کریں
0     481
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات