محترم مفتی صاحب ! السلام علیکم !میں اپنی بیٹی کا نکاح کرنا چاہتا ہوں لیکن رخصتی بعد میں کروں گا ، تو اب صرف منگنی کروں بعد میں نکاح کے ساتھ رخصتی کروں ؟ یا اب صرف نکاح کرکے بعد میں رخصتی کروں ؟ اس بارے میں رہنمائی فرمائیں ۔
واضح ہو کہ لڑکی کے بالغ ہونے کی صورت میں اس کےلئے مناسب رشتہ ملنے کے بعد بغیر کسی معقول عذر اور وجہ کے نکاح و رخصتی میں تاخیر نہیں کرنی چاہیئے ، بلکہ احادیثِ مبارکہ میں اس میں جلدی کرنے کا حکم ہے ، تاہم اگر سائل کسی بھی عذر کی وجہ سے ابھی اپنی بیٹی کی رخصتی نہیں کرانا چاہتا ، بلکہ فقط منگنی کرنا چاہتا ہوتو منگنی چونکہ وعدۂ نکاح ہے ، اور اس کے باوجود لڑکا لڑکی ایک دوسرے کےلئے بدستور اجنبی رہتے ہیں ، اس لئے منگنی کے بعد سائل کی بیٹی اور اس کا منگیتر ایک دوسرے کےلئے اجنبی رہیں گے اور ان کےلئے ایک دوسرے سے بات چیت اور باہم بےتکلفی اختیار کرنے کی اجازت نہ ہوگی ، البتہ اگر سائل کو بیٹی اور اس کے منگیتر کا باہم بات چیت اور بےتکلفی اختیار کرنے کا یقین یا ظنِ غالب ہو تو ایسی صورت میں ان دونوں کا نکاح کرانا چاہیئے تاکہ گناہ سے بچا جاسکے ، لیکن نکاح اور رخصتی کے درمیان زیادہ وقت رکھنے کی صورت میں چونکہ میاں بیوی کے درمیان چھوٹی موٹی باتوں پر باہمی اختلافات کا اندیشہ رہتا ہے اور کبھی کبھار رخصتی کرانا بھی مشکل ہوجاتی ہے اس لئے پوری صورتِ حال کو سامنے رکھ کر اسی کے مطابق فیصلہ کرنا زیادہ بہتر ہے ۔
کمافی سنن الترمذی: عن علي بن أبي طالب، أن النبي صلى الله عليه وسلم قال له: يا علي، ثلاث لا تؤخرها: الصلاة إذا آنت، والجنازة إذا حضرت، والأيم إذا وجدت لها كفئا۔ الحدیث(ج1، صـــ43، ط:المیزان)۔