کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ کے بارے میں کہ کسی دینی مدرسہ میں پڑھنے والے ایسے دو طلباء جس میں ایک بالغ اور ایک نابالغ ہے اور ان کے والد صاحب نصاب اور کروڑوں کا مالک ہے کیا ان دو طلباء کو شرعاً زکوٰۃ دینا جائز ہے؟ اور ان کو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ کی ادائیگی ہوجائے گی؟ جبکہ زکوٰۃ کا یہ مال بھی ان کوذاتی ملکیت میں دیا جائے نہ کہ مدرسہ کے اخراجات کے خاطر۔
شریعت کی روشنی میں رہنمائی فرماکر عند اللہ ماجور ہوں۔
مالدار آدمی کا نابالغ بیٹا چونکہ اپنے والد کے تابع ہے، اس لئے اسکو زکوٰۃ دینے سے زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی، البتہ بالغ اگر خود صاحبِ نصاب نہ ہو تو اس کو زکوٰۃ دینا جائز ہے۔
کما فی الدر: (مصرف الزكاة والعشر) (الی قوله) (هو فقیر وهو من له أدنی شیٔ) ای دون نصاب أو قدر نصاب غیر نام مستغرق فی الحاجة (إلی قوله) (وفی سبیل الله وهو منقطع الغزاة) وقیل الحاج وقیل طلبة العلم. اهـ (ج۲، ص۳۳۹ – ۳۴۳)
وفیه أیضا: (و) لا إلی (غنی) (الی قوله) (و) لا إلی (طفله) بخلاف ولده الكبیر وأبیه وامرأته الفقراء وطفل الغنیة فیجوز لانتفاء المانع. اهـ (ج۲، ص۳۴۹ – ۳۵۰) والله اعلم بالصواب
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0