محترم جناب مفتی صاحب! السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ! بعد از سلام کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اگر مؤذن یا پیش امام اگر غریب ہیں ان کو زکوٰۃ دی جا سکتی ہے یا نہیں؟ بعض لوگ کہتے ہیں ان کو ہدایا دیئےجائیں زکوٰۃ نہیں ، اس کے بارے میں مفصلاً فتوٰی صادر کر کے دل کو مطمئن فرمائیں۔
واضح ہو کہ اگر امام یا مؤذن واقعۃً مستحق زکٰوۃ ہو ، یعنی ان کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر مال تجارت ، نقدی اور ضرورت سے زائد سامان نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو تو وہ مستحق زکٰوۃ ہے ، لہذا ان کو زکٰوۃ کی رقم دی جا سکتی ہے ، البتہ زکٰوۃ کی رقم ہدیہ کے نام سے دینی چاہیئے ، تاکہ ان کی عزت نفس مجروح نہ ہو ، جبکہ ان کے مشاہرہ کی مد میں زکوٰۃ کی رقم دینا جائز نہیں اور اس سے اصل مالکان کی زکوٰۃ بھی ادا نہ ہو گی ۔
کما فی الدر المختار : أی مصرف الزکاۃ و العشر ، و اما خمس المعدن فمصرفہ کالغنائم ( ھو فقیر ، و ھو من لہ ادنی شیئ ) ای دون نصاب أو قدر نصاب غیر نام مستغرق فی الحاجۃ ( و مسکین من لا شیئ لہ ) علی الذھب ، لقولہ تعالیٰ أو مسکینا ذا متربۃ و آیۃ السفینۃ للترحم ( و عامل) یعم الساعی و العاشر ( فیعطی ) و لو غنیا لا ھاشمیا لانہ فرغ نفسہ لھذا العمل فیحتاج الی الکفایۃ الخ ( باب المصرف ، ج 2 ، ص 339 ، ط : سعید ) ۔ واللہ اعلم
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0