کیا بینک سے جو سود کی رقم حاصل کی گئی ہے، اس سے یتیم بچوں کے اسکول کی فیس ادا کرسکتے ہیں؟
واضح ہوکہ سود کی جو رقم حاصل کی گئی ہے، اس کے متعلق اصل حکم یہ ہے کہ اگر اس کے مالک تک یہ رقم واپس کی جا سکتی ہو، تو اسے واپس کردی جائے،ورنہ بلانیت ثواب کسی مستحق شخص کودینا لازم اور ضروری ہوگا، لہذا صورت مسئولہ میں مذکور یتیم بچے اگر مستحق ہوں، تو انہیں یہ رقم بلانیت ثواب دی جاسکتی ہے،چنانچہ انہیں یہ رقم ملنے کے بعد وہ اسے اپنے اسکول کی فیسوں وغیرہ میں خرچ کرسکتے ہیں،تاہم اس سودی معاملے پر بصدق دل توبہ واستغفار کرنا اور آئندہ کے لئے اپنے آپ کو سودی معاملات سے بچانا بھی لازم اور ضروری ہے۔
کما فی صحیح مسلم: عن جابر رضی اللہ عنہ قال: ؛عن رسول للہ ﷺ آکل الربا وموکلہ وکاتبہ وشاھدیہ، وقال: ھم سواء ۔الحدیث (ج2 صـ27 ط: قدیمی)۔
وفی معارف السنن: قال شیخنا: ویستفاد من کتب فقھائنا "کالھدایۃ" وغیرھا ان من ملک بملک خبیث ولم یمکنہ الرد الی المالک فسبیلہ التصدق عل الفقراء الخ (ج1 صـ34 ابواب الطھارۃ ط: سعید)۔
وفي حاشية ابن عابدين: وفي التمليك إشارة إلى أنه لا يصرف إلى مجنون وصبي غير مراهق إلا إذا قبض لهما من يجوز له قبضه كالأب والوصي وغيرهما ويصرف إلى مراهق يعقل الأخذ كما في المحيط قهستاني اھ (2/ 344)۔
وفی الفقه الإسلامي وأدلته: يشترط التمليك لصحة أداء الزكاة (1) بأن تعطى للمستحقين، فلا يكفي فيها الإباحة أو الإطعام إلا بطريق التمليك اھ(3/ 1812)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0