کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک امام صاحب ہیں جن کا گھر مکان وغیرہ کچھ بھی نہیں ہے اور ان کے چھ بچے ہیں اور مسجد سے ان کو صرف تین ہزار روپے تنخواہ ملتی ہے جس سے وہ بچوں کا پیٹ پالتے ہیں اور ایک ان کا مقتدی ان کو ایک کمرہ اپنی زکوٰۃ کی رقم سے بنواکر دینا چاہتا ہے ، آیا اب اس امام صاحب کیلئے یہ جائز ہے کہ وہ اس کو قبول کریں یا جائز نہیں ہے؟ قرآن و حدیث کی روشنی میں ہماری رہنمائی فرمائیں۔
نیز امام صاحب کا کوئی اور ذریعہ آمدن نہیں ہے اور نہ ہی وہ اس مہنگائی کے دور میں ان تین ہزار سے بچت کرکے اپنا مکان بنواسکتے ہیں۔
مذکور امام صاحب اگر واقعۃً مستحق زکوٰۃ ہوں تو اس صورت میں زکوٰۃ کی رقم سے انہیں مکان تعمیر کرکے دینا یا اس کے بقدر نقد رقم دینا ہر دو امور شرعاً جائز اور درست ہیں۔
کما فی الهندیة: اما تفسیرها فهی تملیك المال من فقیر مسلم غیر هاشمی ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالٰی هذا فی الشرع كذا فی التبیین. اهـ (ج۱، ص۱۷۰)
وفیھا ایضًا: ویجوز دفعها الی من یملك اقل من النصاب وإن كان صحیحًا مكتسبًا كذا فی الزاهدی. اهـ (ج۱، ص۱۸۹) والله اعلم بالصواب
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0