کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام مندرجہ ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک شخص زکوٰۃ کے پیسے لے لے اور پھر اُن زکوٰۃ کے پیسوں سے گھر بنائے تو آیا یہ شخص اس مکان میں رہائش اختیار کرسکتا ہے یا نہیں؟ اس بات کی بھی وضاحت فرمائیے کہ اگر وہ غریب ہے تو پھر کیا حکم ہے اگر مالدار ہے تو کیا حکم ہے؟
براہِ کرم قرآن و حدیث کی روشنی میں اس مسئلہ کی وضاحت فرمائیے۔
نوٹ: مذکور شخص کو زکوٰۃ کی رقم دیکر کہا گیا تھا کہ چاہو تو خود رکھ لو یا کسی دوسرے مستحق کو دے دو، جبکہ لینے والا خود بھی غریب ہے۔
جواب: صورتِ مسئولہ میں مذکور شخص اگر واقعۃً زکوٰۃ لینے کا مستحق ہو اور زکوٰۃ دینے والے نے اسے زکوٰۃ کی مذکور رقم اپنے استعمال میں لانے کا بھی اختیار دیا ہو تو اس کا مذکور رقم کے ذریعہ مکان تعمیر کرکے اپنے استعمال میں لانا بلاشبہ جائز اور درست ہے، ورنہ نہیں۔
فی الدر: أی مصرف الزكاة والعشر هو فقیر وهو من له ادنٰی شیٔ ومسكین من لا شیٔ له علی المذهب. الخ (ج۲، ص۳۳۹) والله اعلم بالصواب
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0