کیا فرماتے ہیں علمائے کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے تحت کہ ایک شخص د وکاندار سے پنکھے خریدکر مدرسہ میں مدِّ زکوٰۃ کے اندر دینے کیلئے دوکاندار ہی کو وکیل بنائے آیا اس عمل سے زکوٰۃ ادا ہوگی یا نہیں؟ اور اگر ادا ہوجائے تو مدرسہ کیلئے اشیاء کی تملیک کا کیا طریقہ ہے؟
پنکھے خریدنے کے بعد دوکاندار کو وکیل بناکر مدرسہ میں دینے سے بھی شرعاً زکوٰۃ ادا ہوجائے گی جبکہ تملیک کسی مستحق زکوٰۃ کو مالک بناکر دینے کا نام ہے پھر مستحق اسے جہاں چاہے صَرف کرسکتا ہے۔
فی الدر المختار: وشرط صحة ادائہا نیة مقارنة لہ أی للاداء ولو کانت المقارنة حکما کما لو دفع بلا نیة ثم نوی والمال قائم فی ید الفقیر، أو نوی عند الدفع للوکیل ثم دفع الوکیل بلا نیة. اھـ (ج۲، ص۲۶۸)
فی الشامیة: (تنبیه) ھذا التعریف لا یدخل فیہ زکاة السوائم لانّه یأخذھا العامل ولو جبرا فلم یوجد التملیک من المزکی إلّا ان یقال ان السلطان أو عامله بمنزلة الوکیل عند فی صرفھا وتملیکھا أو عن الفقراء فتأمل. اھـ (ج۲، ص۲۵۷) واللہ اعلم
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0