ایک شخص ہے، اس کی بیٹی کی عمر 10 سال ہے، اس شخص کی بیوی کا انتقال 3 سال قبل ہوا، اب وہ شخص ایک عورت سے شادی کرنا چاہتا ہے، لیکن لڑکی والے یہ شرط رکھے ہوئے ہیں کہ آپ کی اپنی بیٹی جو 10 سال کی ہے اور ابھی مدرسہ میں پڑھ رہی ہے ، اس کے بدلہ میں ہم اپنے لڑکے سے شادی کرنا چاہتے ہیں، جس کی عمر 23 سال ہے، اور نشہ بھی کرتا ہے، براہِ مہربانی اس بارے میں قرآن و حدیث کی روشنی میں بتائیں کہ وٹہ سٹہ جائز ہے؟ تو کیا والد کو یہ اختیار حاصل ہے ؟ اور اگر لڑکی کے بھائی منع کریں، تو ان کا منع کرنا درست ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور لڑکا اگر واقعۃً نشہ کرتا ہو، اور اس کا نشہ کرنا معروف ہو تو مذکور شخص کا اپنے ذاتی مفاد کی خاطر اس سے اپنی بیٹی کا رشتہ کرنا مناسب اور درست نہیں ہے، بلکہ اس کو کسی دوسری جگہ رشتہ کرنا چاہیئے، لیکن اگر شخصِ مذکور اس رشتہ پر بضد ہو تو بھائیوں کو اس رشتہ سے منع کرنے کا اختیار حاصل ہوگا اور اگر بھائیوں کے منع کرنے کے باوجود والد اپنے مفاد کی خاطر رشتہ کر لیتا ہے تو اس کے سوءِ اختیار کے تحقق کی وجہ سے یہ نکاح شرعاً منعقد نہ ہوگا، لہٰذا اس لڑکی کے والد کو اپنے اس طرزِ عمل سے اجتناب لازم ہے۔
کما فی الدر المختار: (إنكاح الصغير والصغيرة) جبرا (ولو ثيبا) كمعتوه ومجنون شهرا (ولزم النكاح ولو بغبن فاحش) بنقص مهرها وزيادة مهره (أو) زوجها (بغير كفء إن كان الولي)المزوج بنفسه بغبن (أبا أو جدا) وكذا المولى وابن المجنونة (لم يعرف منهما سوء الاختيار) مجانة وفسقا (وإن عرف لا) يصح النكاح اتفاقا، وكذا لو كان سكران فزوجها من فاسق أو شرير أو فقير أو ذي حرفة دنيئة لظهور سوء اختياره فلا تعارضه شفقته المظنونة. الخ
و فی رد المحتارتحت ( قولہ: وإن عرف لا یصح النکاح ) وعلم من عبارة القنية أنه لا فرق في عدم الكفاءة بين كونه بسبب الفسق أو غيره، حتى لو زوجها من فقير أو ذي حرفة دنية ولم يكن كفؤا لها لم يصح فقصر ابن الهمام كلامهم على الفاسق مما لا ينبغي كما أفاده في البحر وما ذكرنا من ثبوت الخيار للبيت إذا بلغت إنما هو في الصغيرة، أما لو زوج الأولياء الكبيرة بإذنها ولم يعلموا عدم الكفاءة ثم ظهر عدمها فلا خيار لأحد الخ
وفیہ ایضاً: (و) تعتبر في العرب والعجم (ديانة) أي تقوى فليس فاسق كفؤا لصالحة أو فاسقة بنت صالح معلنا كان أو لا على الظاهر نهر الخ
و فیہ ایضاً: والحاصل: أن المفهوم من كلامهم اعتبار صلاح الكل، وإن من اقتصر على صلاحها أو صلاح آبائها نظر إلى الغالب من أن صلاح الولد والوالد متلازمان، فعلى هذا فالفاسق لا يكون كفؤا لصالحة بنت صالح بل يكون كفؤا لفاسقة بنت فاسق، وكذا لفاسقة بنت صالح كما نقله في اليعقوبية الخ ( باب الکفاءۃ ج 3 ص 89 ط: سعید )۔