السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری مسجد میں ایک طالب علم ہے، جس کی عمر اٹھارہ سال ہے، اور اس کی تاریخ پیدائش 2005 ہے، اب یہ طالب علم محلہ کی مسجد میں تراویح پڑھانے کا خواہشمند ہے، لیکن لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ نہیں پڑھاسکتا جس کی وجہ اس طالب علم کے چہرہ پر مکمل داڑھی کا نہ ہونا ہے ، بلکہ طالب علم کے چہرہ پر اب کچھ کچھ داڑھی نکلنا شروع ہوئی ہے ، اس بارے میں شریعت کا کیا حکم ہے۔؟آپ حضرات بتادیں۔ بہت نوازش ہوگی۔شکریہ!
واضح ہو کہ لڑکے کے بالغ ہونے کے بعد شرعاً اس کے لئے تراویح اور دیگر نمازوں کی امامت کرانا اور اس کی اقتداء میں نماز پڑھنا بلاشبہ جائز و درست ہے ، لہذا مذکور لڑکا اٹھارہ سال کی عمر ہونے پر شرعاً بالغ شمار ہوگا اگرچہ اس کے چہرہ پر مکمل داڑھی نہ ہو ، اور اب اگنا شروع ہوئی ہو ، تب بھی اس کا محلہ کی مسجد میں تراویح پڑھانا اور اس کی اقتداء میں تراویح ادا کرنا درست ہے ، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ۔
کما فی الھندیہ: بلوغ الغلام بالاحتلام أو الإحبال أو الإنزال، والجارية بالاحتلام أو الحيض أو الحبل، كذا في المختار والسن الذي يحكم ببلوغ الغلام والجارية إذا انتهيا إليه خمس عشرة سنة عند أبي يوسف ومحمد رحمهما الله تعالى و هو رواية عن أبي حنيفة رحمه الله تعالى و عليه الفتوى( فصل فی معرفۃ حد البلوغ، ج5 ، ص61، ط: ماجدیہ) ۔
و فی رد المحتار تحت: (قولہ و کذا تکرہ خلف امرد) (الی قولہ) و في حاشية المدني عن الفتاوى العفيفية: سئل العلامة الشيخ عبد الرحمن بن عيسى المرشدي عن شخص بلغ من السن عشرين سنة وتجاوز حد الإنبات ولم ينبت عذاره، فهل يخرج بذلك عن حد الأمردية، وخصوصا وقد نبت له شعرات في ذقنه تؤذن بأنه ليس من مستديري اللحى، فهل حكمه في الإمامة كالرجال الكاملين أم لا أجاب: سئل العلامة الشيخ أحمد بن يونس المعروف بابن الشلبي من متأخري علماء الحنفية عن هذه المسألة فأجاب بالجواز من غير كراهة اھ (مطلب فی امامۃ الامرد ، ج 1 ، ص 562 ، ط: سعید) ۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0