السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاتہ!
کیا فرماتے ہیں علماءِ کرام و مفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مدرسہ میں رہائشی بچے نہیں ہیں اور جزء وقتی مدرسہ ہے اور بچوں سے باقاعدہ فیس بھی لی جاتی ہے اور مدرسہ کی 2 دکانیں بھی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اس مدرسہ میں زکوٰۃ ، فطرات، صدقات، خیرات دینا کیسا ہے؟ جبکہ جگہ بھی زکوٰۃ ، صدقہ، فطرہ جمع کر کے لی ہے۔ اب مدرسہ میں اسکولنگ سسٹم قائم کرنا ہے اور اس میں باقاعدہ فیس بھی لی جائے گی اور اسکی دوسری یا تیسری منزل پر کسی کو جگہ کرایہ پر دینا یا ویسے ہی کسی اور کو رہائش کیلئے جگہ دینا شرعی طور پر جائز ہے یا نا جائز؟ اور اس میں کوئی جائز شرعی حیلہ ہوسکتا ہے یا نہیں؟ ہم زکوٰۃ کے بنے ہوئے اس مدرسہ کو کرایہ پر دےدیں اور 2 دکانوں کا کرایہ ہمیں مل رہا ہے اورمدرسہ کی آخری منزل کو ہم کرایہ پر دے دیں گے، تاکہ مدرسہ کے ساتھ تعاون ہوسکے اور کیا مدرسہ کا مہتمم اس میں رہائش اختیار کرسکتا ہے ؟ میری شرعی رہنمائی کی جائے۔
مزید وضاحت! مسجد سے اعلان کیا گیا تھا کہ مدرسہ کے لئے جگہ چاہیئے، اس کے لئے چندہ کا اعلان کیا گیا ، چندہ جمع ہوا اور اس سے مدرسہ کی جگہ خریدی گئی اور تعمیر کیا گیا، ساتھ ہی دکانیں بھی تعمیر کی گئیں یہ جگہ مدرسہ والی مسجد سے ہٹ کر ہے لیکن یہ محلہ کے بچوں اور ضروریات کے لئے بنایا گیا ہے باقاعدہ وقف کی صورت نہیں ہے، اور ابھی تک جن لوگوں کی زکوٰۃ اور فطرہ اس میں لگایا گیا ہے تو کیا ان کی زکوٰۃ ادا ہوگئی ہے کہ نہیں؟ اور اس جزء وقتی مدرسہ میں زکوٰۃ ، صدقات و فطرہ کی رقم خرچ کرنا جائز ہے کہ نہیں؟
واضح ہو کہ زکوٰۃ اور دیگر صدقاتِ واجبہ ( جیسے صدقہ فطر، فدیہ، کفارہ وغیرہ ) کی ادائیگی کے درست ہونے کے لئے مستحقِ زکوٰۃ شخص کو ان رقوم کا مالک بنا کر دینا ضروری ہے، اور جگہ کی خریداری اور اُسے تعمیر کرنے میں چونکہ کسی شخصِ مستحق کو مالک بنانا نہیں پایا جاتا، اس لئے زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقم کو براہِ راست مدرسہ وغیرہ کی تعمیر میں لگانا درست نہیں ہے، لہٰذا جن لوگوں نے زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقم مذکور مدرسہ کے لئے جگہ کی خریداری اور تعمیر میں لگانے کے لئے دی ہو تو ان کی زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی ادائیگی درست نہیں ہوئی، بلکہ ان کے ذمہ دوبارہ اس رقم کی ادائیگی لازم ہوگی، اسی طرح اگر اس مدرسہ میں پڑھنے والے بالغ طلباء خود یا بچوں کے والدین مستحقِ زکوٰۃ نہ ہوں تو ان کے تعلیمی اخراجات کے لئے زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کی رقم وصول کرنا شرعاً جائز نہیں، ورنہ لوگوں کی زکوٰۃ شرعاً درست ادا نہ ہوگی، البتہ نفلی صدقات اور عطیات وغیرہ کی مد میں ان کے ساتھ تعاون کرنا بلاشبہ جائز اور باعثِ اجر و ثواب ہے، جبکہ مذکور مدرسہ کے لئے جگہ کی خریداری اور تعمیر وغیرہ چونکہ اہلِ محلہ کی جمع کردہ رقم کے ذریعہ ممکن ہوئی ہے، اس لئے زمین سمیت پوری تعمیر شرعاً وقف کہلائے گی، اور اہلِ محلہ ( چندہ دہندگان ) یا ان کی طرف سے منتخب کردہ کمیٹی ممبران کی اجازت اور باہمی مشورہ سے مدرسہ کے مفاد کی خاطر دوکان یا کسی منزل کو ایسے کام کے لئے کرایہ پر دینا، جس سے املاکِ وقف کو نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہ ہو، شرعاً درست ہوگا، بشرطیکہ اس کی وجہ سے اصل مدرسہ کے قیام کا مقصد فوت نہ ہورہا ہو، جبکہ مدرسہ کے انتظام و انصرام سنبھالنے والے شخص ( مہتمم ) کو مدرسہ کی جگہ میں باہمی مشورہ سے رہائش دینے میں بھی شرعاً کوئی حرج نہیں۔
کما فی الدر المختار: (هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم (جزء مال) خرج المنفعة، فلو أسكن فقيرا داره سنة ناويا لا يجزيه (عينه الشارع) وهو ربع عشر نصاب حولي خرج النافلة والفطرة (من مسلم فقير) ولو معتوها (غير هاشمي ولا مولاه) أي معتقه، وهذا معنى قول الكنز تمليك المال: أي المعهود إخراجه شرعا (مع قطع المنفعة عن المملك من كل وجه) فلا يدفع لأصله وفرعه (لله تعالى) الخ ( کتاب الزکوٰۃ ج 2 ص 258 ط: سعید )۔
وفیہ ایضاً: قولهم: شرط الواقف كنص الشارع أي في المفهوم والدلالة ووجوب العمل به فيجب عليه خدمة وظيفته أو تركها لمن يعمل، وإلا أثم لا سيما فيما يلزم بتركها تعطيل الكل من النهر الخ ( کتاب الوقف ج 4 ص 433 ط: سعید )۔
وفی الفقہ الحنفی وأدلتہ: لا تجوز اجارۃ الوقف أکثر من المدۃ التی شرطھا الواقف، لأنہ یجب اعتبار شرط الواقف، ولأنہ ملکہ أخرجہ بشرط معلوم، فان لم یشرط مدۃ، فالمتقدمون من الحنفیۃ قالوا: یجوز إجارتہ أیۃ مدۃ کانت، والمتأخرون قالوا: لا یجوز أکثر من سنۃ، لئلا یتخذ ملکاً بطول المدۃ، فتندرس سمۃ الوقفیۃ لکثرۃ الظلمۃ فی زمانھم و تغلبھم وإستحلالھم ( الی قولہ ) ولا تجوز اجارۃ الوقف إلا باجر المثل دفعاً للحرج ( الی قولہ ) ولیس للموقوف علیہ إجارۃ الوقف، الا أن یکون ولیا من جھۃ الواقف أو نائبا عن القاضی الخ ( کتاب الوقف، اجارۃ الوقف ج 3 ص 165 ط: وحیدی )۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0