میری خاتون کزن کی عمر 45 سال ہے،وہ طلاق یافتہ ہے،اس کے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں ہے،اس کی کوئی اولاد نہیں ہے،وہ اپنے اکلوتے بھائی پر گزارہ کررہی ہےجو 15 سکیل سرکاری ملازم ہے،بھائی کا اپنی بیوی اور چار بچوں کا خاندان ہے،خاتون کے پاس گاؤں میں ان کی تمام کمبائن پراپرٹی میں سے تقریباً تین کنال زمین کا حصہ ہے،جو صرف اپنےاستعمال کے لئے بارش کے پانی سے کاشت کی جاتی ہے،خاتون کے والدین فوت ہوچکے ہیں،کیا وہ زکوۃ کی حقدار ہے؟
صورتِ مسئولہ میں مذکور خاتون کے پاس اگر یہ زمین ذاتی استعمال یا ذریعہ آمدن کے لیے ہو،اس کے علاوہ اس کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے بقدر مالِ تجارت،نقدی اور ضرورت سے زائد سامان وغیرہ نہ ہو،اوروہ سیدہ بھی نہ ہوتو وہ مستحق زکوۃ ہے،لہذا اس کو زکوٰۃ کی رقم دی جاسکتی ہے،ورنہ نہیں۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0