السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری مسجد میں جو قاری صاحب ہمیں نماز پڑھاتے ہیں اور بچوں کو سبق پڑھاتے ہیں ، ہم ان کو بطورِ اجرت عشر وزکوۃ اور فطرانہ دیتے ہیں، کیا یہ جائز ہے؟
واضح ہوکہ مستحق کو زکوٰۃ کی رقم بطورِ اجرت دینا شرعاً جائز نہیں اور اس سے اصل مالکان کی زکوٰۃ بھی ا دا نہ ہوگی، لہذا صورت ِ مسئولہ میں سائل اور اہلِ محلہ کا موصوف قاری صاحب کو ان کی اجرت کی مد میں زکوٰۃ اور عشر وغیرہ دینا شرعاً جائز نہیں اور اب تک جتنی رقم ان کو اس طرح دی جاچکی ہے، وہ درست نہیں ہوئی، بلکہ اتنی رقم بطورِ زکوٰۃ وغیرہ دوبارہ ادا کرنا شرعاً لازم ہے،جبکہ اہلِ محلہ اور مسجد کمیٹی کو چاہیئے کہ مذکور قاری صاحب کیلئے باقاعدہ کوئی معقول تنخواہ مقرر کریں، اور ان کی تنخواہ کی مد میں زکوٰۃ کی رقم شامل نہ کریں، البتہ تنخواہ کے علاوہ اگر اہلِ محلہ ان کو اپنی زکوٰۃ وغیرہ دینا چاہیں ، تو دے سکتے ہیں، بشرطیکہ وہ واقعۃً مستحق ہو۔
کما قال اللہ تعالی: إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ الآیۃ (آیتـ 60 سورۃ التوبۃ)
وفی بدائع الصنائع: وکما لا یجوز صرف الزکاۃ إلی الغنی لا یجوز صرف جمیع الصدقات المفروضۃ والواجبۃ إلیہ کالعشر والکفارات والنذور وصدقۃ الفطر لعموم قولہ تعالی انما الصداقات للفقراء وقول النبی ﷺ لا تحل الصدقۃ لغنی ولان الصدقۃ مال تمکن فیہ الخبیث لکونہ غسالۃ الناس لحصول الطھارۃ لھم بہ من الذنوب الخ (کتاب الزکاۃ فصل وأما الذی یرجع إلی المؤدی إلیہ ج2 صـ 47 ط: سعید)
وفی الھندیۃ: ولو نوی الزکاۃ بما یدفع المعلم إلی الخلیفہ، ولم یستأجرہ إن کان الخلیفۃ بحال لولم یدفعہ یعلم الصبیان آیضاً أجزأہ، وإلا فلا الخ (کتاب الزکاۃ الباب السابع من المصارف ج 1 صـ 190 ط:ماجدیۃ)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0