السلام علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ !مفتی صاحب میر ا غیروں میں نکاح ہوا، لڑکی اپنی پسند کی شادی کرنا چاہتی تھی ،لیکن اس کے گھر والوں نے نہیں کرنے دی ،اور پھر میرے ساتھ نکاح طے پایا، میں نے نکاح کے بعد ایک بار اپنے سامنے اپنی بیوی کو اس لڑکے سے بات کرتے ہوئے پایا ،مگر میں نے اس پر ہاتھ نہیں اٹھایا اور اسے سمجھایا اگلے دن اس نے معافی مانگی اور دوبارہ ایسی غلطی نہ کرنے کا عہد کیا، لیکن کچھ عرصے کے بعد میں نے اس کو دوبارہ اسی لڑکے کے ساتھ بات کرتے پایا اور لڑکی نے اپنا عہد بھی توڑا، اب لڑکی دوبارہ مجھ سے معافی مانگ رہی ہے ، مجھے اس معاملے میں شریعت کیا حکم دیتی ہے؟کیونکہ میرا اس لڑکی سے اعتماد اٹھ گیا ہے، براہ مہربانی شریعت کے مطابق بتائیں میں کون سا راستہ اختیار کروں ؟نوٹ : ہمارا نکاح ہوا ہے ،لیکن شادی نہیں ہوئی اور ہم آپس میں ایک بار ہمبستری کر چکے ہیں ،لیکن حمل نہیں ہوا،جزاک اللّٰہ۔
سائل کا بیان اگر واقعۃًدرست اور مبنی بر حقیقت ہو ، اس میں کسی بھی قسم کی غلط بیانی اور الزام تراشی سے کام نہ لیا گیا ہو اور واقعۃًسائل کی بیو ی کے مذکور شخص کے ساتھ خفیہ تعلقات ہوں تو اس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گا ر ہوئی ہے ، اس پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدق دل توبہ واستغفار کے ساتھ ساتھ شوہر سے بھی معافی مانگے اور آئندہ دوبارہ اس قسم کے ناجائز تعلقات سے مکمل اجتناب کرے ، چنانچہ اگر سائل کی بیوی کو اپنی غلطی کا احساس ہو چکا ہو اور سائل کو اس کی توبہ پر اعتماد ہو تو اس کو معاف کردینا چاہیے اور جلد از جلد رخصتی کابندوبست کرنا چاہیے، تاہم اگر اس کے باوجود وہ اپنی اس غلط حرکت سے باز نہ آئے، تو ایسی صورت میں سائل اس کو ایک طلاق دیکر اپنی زوجیت سے علیحدہ بھی کرسکتا ہے، اس صورت میں سائل گناہ گار بھی نہ ہوگا۔
کمافی الاحکام القرآن للجصاص: ولهن مثل الذي عليهن بالمعروف وللرجال عليهن درجة والله عزيز حكيم: قال أبو بكر رحمه الله أخبر الله تعالى في هذه الآية أن لكل واحد من الزوجين على صاحبه حقا(الاقولہ) واللاتی تخافون نشوزھن فعظوھن واھجروھن فی المضاجع واضربوھن، فان اطعنکم فلاتبتغوا علیھن سبیلاً، یدل علیٰ ان علیھا طاعتہ فی نفسھا وترک النشوز علیہ الخ(باب حقوق الزوج علیٰ المراۃ وحقوق المراۃ علیٰ الزوج اھ (ج1/ص/374ط: سہیل اکیڈمی)۔