السلام علیکم!
میری وائف کے پاس تین تولہ سونا ہے، اس کے ساتھ کچھ پیسے ہوتے ہیں، لیکن آتے جاتے رہتے ہیں رکھے ہوئے نہیں ہوتے، تو پوچھنا یہ تھا کہ اس سونے پر زکوۃ آئیگی؟ اور جو پیسے ہوتے ہیں کیا ان پر بھی سال گزرناضروری ہے؟
سائل کی بیوی کے پاس اگر تین تولہ سونے کیساتھ کچھ نقدی بھی موجود ہو، تو چونکہ نقدی اور تین تولے سونے کی مجموعی مالیت ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کو پہنچتی ہے، اس لئے اس صورت میں سائل کی بیوی صاحب نصاب شمار ہوگی، پھر دورانِ سال اگرچہ رقم اخراجات میں خرچ ہونے کی وجہ سے اس میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہو لیکن اگر زکوۃ کی تاریخ میں سائل کی بیوی کے پاس تین تولہ سونے کیساتھ کچھ نقدی موجود ہو تو ایسی صورت میں قرضہ جات کو منہا کرنے کے بعد سونے اور نقدی کی مجموعی مالیت پر اس کے ذمہ ڈھائی فیصد کے حساب سے زکوۃ کی ادائیگی لازم ہوگی۔
کما فی الدرالمختار: (وسببہ) ای بسبب افتراضھا (ملک نصاب حولی) نسبۃ للحول لحولانہ علیہ (تام) الخ (ج2 صـ259 کتاب الزکاۃ ط: سعید)۔
وفی الھندیۃ: وتضم قیمۃ العروض الی الثمنین والذھب الی الفضۃ قیمۃ الخ (ج1 صـ179 کتاب الزکاۃ ط: ماجدیۃ)۔
وفی بدائع الصنائع: (فصل) اما الاثمان المطلقۃ وھی الذھب والفضۃ اما قدر النصاب فیھما فالامر لایخلو اما ان یکون لہ فضۃ مفردۃ او ذھب مفردۃ او اجتمع لہ الصنفان جمیعا فان کان لہ فضۃ مفردۃ فلازکوۃ فیھا حتی تبلغ مائتی درھم وزنا وزن سبعۃ فاذا بلغت ففیھا خمسۃ دراھم لماروی ان رسول اللہ ﷺ لماکتب کتاب الصدقات لعمرو بن حزم ذکر فیہ الفضۃ لیس فیھا صدقۃ حتی تبلغ مائتی درھم فاذا بلغت مائتین ففیھا خمسۃ دراھم (الی قولہ) ولو نقص النصاب عن المائتین نقصانا یسیرا یدخل بین الوزنین قال اصحابنا لاتجب الزکاۃ فیہ لانہ وقع الشک فی کمال النصاب فلانحکم بکمالہ مع الشک الخ (ج2 صـ405-406 فصل فی بیان مقدار النصاب فی الذھب والفضۃ ط: دارالکتب العلمیۃ)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0