میں نے اپنے دوست سے اپنی نوکرانی کے لئے زکوٰۃ مانگی ، اس نے مجھے اس مقصد کے لئے کچھ رقم دی۔اب میں یہ رقم کسی دوسرے شخص کو دینا چاہتا ہوں ، جو اس سے زیادہ اہل نوکرانی ہے ، کیا میں یہ رقم اپنے دوست کے علم کے بغیر کسی دوسرے شخص کو دے سکتا ہوں ؟ کیا یہ رقم نوکرانی کو دینا ضروری ہے ؟ جزاک اللہ
صورت مسئولہ میں سائل کے دوست نے اس کے کہنے پر زکاۃ کی رقم اس متعینہ مستحق نوکرانی کو دینے کے لئے دی ہو ، تو سائل پر وہ رقم اسی متعینہ نوکرانی کو سپرد کرنا لازم ہوگا ، دوسری نوکرانی کو یہ زکاۃ کی رقم حوالہ کرنا جائز نہ ہوگا ، بلکہ ایسا کرنے سے سائل کے دوست کی زکاۃ بھی ادا نہ ہوگی ، اور اس رقم کا ضمان سائل پر لازم ہوگا ، اس لئے ایسا کرنے سے احتراز لازم ہے۔
كما في رد المحتار تحت ( قوله لولده الفقير) ههنا الوكيل إنما يستفيد التصرف من الموكل وقد أمره بالدفع إلى فلان فلا يملك الدفع إلى غيره كما لو أوصى لزيد بكذا ليس للوصي الدفع إلى غيره الخ (كتاب الزكاة ، مطلب في زکاة ثمن المبيع و وفاء ، ج 2، ص 269، ط : سعید )-
و في درر الحكام في شرح مجلة الأحكام : أما إذا تلف بالتعدي أو التقصير فيكون ضامنا ( المادة ٧٨٤ ، ج ۳، ص 561 ، ط: دار الجيل )-
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0