کیا ایسا شخص زکوٰۃ کا مصرف ہوسکتا ہے، جو خود تو مالکِ نصاب نہ ہو، لیکن اس کی اولاد مالدار وں میں سے ہوں ؟
اولاد کی مالداری سے باپ غنی شمار نہیں ہوتا، اس لئے زکوٰۃ کا مصرف ہونے کی وجہ سے شخص مذکور کو زکوٰۃ دینا جائز اور درست ہے۔
کما فی الفقہ الإسلامی: ولا یجوز دفع الزکاة لولد الغنی اذا کان صغیرًا (إلی قولہ) کما لا یعد الاب غنیا بغنی ابنہ اھـ (197/3)
وفی الفتاویٰ الہندیة: ویجوز صرفھا إلی الاب المعسر وان کان ابنہ موسرًا اھـ (189/1)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0