کیا فرماتے ہیں علمائے کرام ومفتیانِ عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک شخص ایک دینی ادارہ کا سرپرست ہے اور مدرسہ کے اندر طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں ان کا کھانے اور رہائش کا اپنا بندوبست ہے مدرسہ صرف ان کی تعلیمی ضروریات فراہم کرتا ہے، جن میں سے مکان کا کرایہ بجلی کا بل اور معلّم و معلّمات کی تنخواہ کا بندوبست اور پانی وغیرہ کے اخراجات مدرسہ پورا کرتا ہے، مدرسہ کی مالی حالت کافی کمزور ہے جس کی بنا پر مدرسہ ان ضروریات کو پورا کرنے کا حامل نہیں ،اس بناء پر مدرسہ کی مذکورہ ضروریات کو پورا کرنے کیلئے چرمِ قربانی کا مدرسہ کیلئے جمع کرنا کیسا ہے؟ وضاحت فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً!
چرمِ قربانی کے بیچنے کے بعد ان سے حاصل ہونے والی رقم کا فقراء و مساکین پر صدقہ کرنا شرعاً واجب ہے اور سوال میں مذکور مصارف میں سے کوئی بھی زکوٰۃ اور چرمِ قربانی کا مصرف نہیں ، اس لئے مذکور مدرسہ کو ان مدات میں بلا حیلۂ تملیک اس قسم کی رقوم خرچ کرنے سے احتراز لازم ہے۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0