گزارش ہے کہ ہمیں ایک مسئلہ درپیش ہے ہماری ایک فلاحی تنظیم ہے (NGO) ہم غریب بستیوں میں اسکولوں میں غریب مسلمان (پاکستانی) بچوں کیلئے کمپیوٹر (فنی تعلیم حاصل کرنے کیلئے) مفت لگاکر دیتے ہیں اور اُن بچوں کیلئے لائبریری بھی لگاکر دیتے ہیں ہم مسلم کمیونٹی کے اُن غریب بچوں کو جو ابھی تعلیم (کمپیوٹر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی) کا خرچہ برداشت نہیں کرسکتے، اُن کو اس تعلیم سے متعارف کراکے اس کو ان بچوں میں فروغ دینا چاہتے ہیں تاکہ یہ مسلمان بچے بھی ٹیکنالوجی کے میدان مین دنیا کے ساتھ ساتھ چل سکیں۔
سوال یہ ہے کہ کیا ہم اس مد میں (کمپیوٹر اور جدید آلات کی خریداری میں) زکوٰۃ کے پیسے استعمال کرسکتے ہیں؟
اگر زیر تعلیم بچے عاقل بالغ ہونے کے ساتھ واقعۃً مستحق زکوٰۃ بھی ہو،تب تو متعلقہ ادارے کا اُن کیلئے زکوٰۃ اور دیگر صدقات واجبہ کی رقوم سے کمپیوٹر وغیرہ خرید کر اُس پر انہیں مالکانہ قبضہ دینا بلاشبہ جائز ہے، ورنہ نہیں۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0