کیا فرماتے ہیں علمائے کرام مندرجہ ذیل مسائل کے بارے میں کہ (۱) ایک آدمی مثلاً زید کی کُل مال سے زکوٰۃ نکلتی ہے اب اُس کا ایک بیٹا عمر دینی طالبعلم ہے اب آیا اُس کی زکوٰۃ اپنے بیٹےعمر کے اوپر خرچ کرنا جائز ہے یا نہیں؟ جبکہ قرآن کی آیت ﴿انما الصدقات إلی وفی سبیل اللہ وابن السبیل﴾ کے اندر یہ داخل ہے، مدلل و مفصل جواب مطلوب ہے۔
(۲) ایک آدمی کی زکوٰۃ مثلاً تیس ہزار روپے نکلتی ہے اب وہ کسی آدمی کو دیتا ہے کہ وہ کسی اور شخص کو دے اتفاقاً وہ نہ دے سکا اور ڈاکو اُس سے زبردستی چھین لیں اب آیا مذکورہ صورت میں اس آدمی کی زکوٰۃ ادا ہوجائے گی یا دوبارہ اور زکوٰۃ دینی پڑے گی؟ قرآن وحدیث سے مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں۔
(۱) صورتِ مسئولہ میں شخص مذکور کا بیٹا اگرچہ فی سبیل اللہ اور ابن سبیل میں بھی داخل ہے مگر شرعی اعتبار سے اپنے فروع یعنی باپ دادا کا اپنی اولاد کو زکوٰۃ دینا جائز نہیں اس لئے شخص مذکور مسمّٰی زید کا اپنے بیٹے عمر پر اپنی زکوٰۃ میں سے خرچ کرنا شرعاً جائز نہیں۔
(۲) وکیل کے پاس مال زکوٰۃ ضائع ہوجانے کی صورت میں مؤکل کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوتی اس لئے شخص مذکور کی طرف سے اگر اس رقم کی حفاظت میں کسی قسم کی کوتاہی نہ پائی گئی ہو ،تو اسے چاہیئے کہ اصل مالک کو آگاہ کرے تاکہ وہ اپنی زکوٰۃ کی ادائیگی کا اہتمام کرسکے۔
کما فی الھندیة: ولا یدفع الی اصلہ وان علا وفرعہ وان سفل اھ (188/1)
وفی التاتار خانیة: ولا یعطی من الزکاة والد وان علا ولا ولد وان سفل اھ(271/2)
وفی شرح التنویر: ولا یخرج عن العھدة بالعزل الخ وفی الشامیة: فلو ضاعت لا تسقط عنہ الزکاة الخ(270/2)
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0