مصارف زکوۃ و صدقات

زکوٰۃ کی رقم سے کنواں کھدوایا جاسکتا ہے؟

فتوی نمبر :
71213
| تاریخ :
0000-00-00
عبادات / زکوۃ و صدقات / مصارف زکوۃ و صدقات

زکوٰۃ کی رقم سے کنواں کھدوایا جاسکتا ہے؟

کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام کہ کیا زکوٰۃ کی رقم سے کنواں کھدوایا جاسکتا ہے اور مزید یہ کہ اس کو جاری رکھنے کیلئے اس کا خرچہ مثلاً بجلی کا بل ریپئرنگ وغیرہ کا بل بھی زکوٰۃ سے دیا جاسکتا ہے؟ واضح ہو کہ یہ کنواں ذاتی نہیں بلکہ رفاہِ عام کیلئے ہسپتال میں کھدوایا جارہا ہے۔

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کیلئے کسی مستحق کو اس کا مالک بناکر دینا شرعاً شرط ہے جبکہ کنواں کھدوانے اور اس سے متعلقہ دیگر اُمور میں یہ شرط مفقود ہے اس لئے اس میں زکوٰۃ کی رقم صَرف کرنا جائز نہیں اور اس سے دینے والے کی زکوٰۃ بھی ادا نہیں ہوگی۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر: ویشترط ان یکون الصرف (تملیکا) لا اباحة کما مر (لا) یصرف (الی بناء) نحو (مسجد) ولا الی کفن میت. الخ (ج۲، ص۳۴۴)
وفی الشامیة: (قولہ نحو مسجد) کبناء القناطر والساقایات واصلاح الطرقات وکری الأنھار والحج کالجھاد وکل ما لا تملیک فیہ. (ج۲، ص۳۴۴)

واللہ تعالی اعلم بالصواب
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه

فتوی نمبر 71213کی تصدیق کریں
0     956
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات