مڈل کلاس فیملی کی بچی کو شادی پر زکوٰۃ دینا جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ مذکور بچی کے پاس اگر بقدرِ نصاب ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی، یا اسکی مالیت کے بقدر نقدی،مال تجارت اور ضرورتِ اصلیہ سے زائد سامان موجود نہ ہو اور وہ سیدہ بھی نہ ہو، تو وہ مصرفِ زکوٰۃ ہے،اس لئے اس کی شادی کے موقع پر زکوۃ کی رقم سے اس کی مدد کرنا اور بچی کا اس رقم کو اپنے استعمال میں لانا ہر دو امور شرعاً جائز اور درست ہے، تاہم شادی بیاہ کے موقع پر مروجہ غیر شرعی رسومات کی ادائیگی کے لئے زکوٰۃ کی رقم دینا قطعاً مناسب نہیں،بلکہ مستحق زکوٰۃ اور ضرورت مند لوگوں کی حق تلفی کے مترادف ہے ،اس لئے اس سے احتیاط برتنا ضروری ہے۔
كما في الدر المختار : أي مصرف الزكاة ( إلى قوله ) (هو الفقير وهو من له ادنی شيئ أى دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ ( باب المصرف، ج ۲ ، ص ۳۳۹ ، ط: سعيد) ۔
وفي الهندية، ولا يجوز دفع الزكاة الى من یملك نصاباً أي مال كان دنانیر اودراهم أو سوائم او عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهد اھ (ج ا ص ١8٩ ط: ماجدية )۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0