السلام عليكم و رحمۃ الله و بركاتہ! ایک شرعی وضاحت کا درخواست گزار ہوں، کیونکہ اس سے یہاں قرآن کریم کی نشرو اشاعت کا گہرا تعلق ہے، ہمارے قاری صاحب، جو کہ خود مستند قاری ہیں اور 1995 سےیہاں قران کریم کی تعلیم و تعلم میں مصروف ہیں، انہوں نے بوجہ ضرورت، 5سال قبل مورگیج پر (جو کہ اس ملک میں بمطابق علماء کی مجلس پہلا گھر مورگیج کے ساتھ خریدنا جائز ہے) یہ گھر خریدا اور اس میں ابھی تک کوئی چندہ بھی نہیں کیا، بلکہ سب خرچ اپنی جیب سے کیا ، مگر اب سود سے جان چھڑانے کے لئے اور 5 سال یہاں پڑھانے کے بعد اب یہ جگہ بوجہ قرض ادا نہ کرسکنے اور اس کے ضائع ہونے کے خطرہ سے، مورگیج کے قرض کی ادائیگی کے لئے وہ عوام الناس سے چندہ کی اپیل کرنا چاہتے ہیں اور شاید یہاں یہ بتانا معنی رکھتا ہو کہ قبلہ قاری صاحب سید بھی ہیں، اسکے لئے مسئلہ بتائیں کہ ان کیلئے عوام سے چندہ کرنا جائز ہے؟ اور از راہ کرم حیلۂ تملیک کی بھی وضا حت فرمائیں کہ وہ کیسے کیا جائے اگر اسکی ضرورت ہو ؟
اللہ سبحانہ و تعالٰی آپکے علم و حلم میں بہت برکتیں عطاء فرمائے۔
واضح ہو کہ مورگیج کے ذریعہ حصولِ مکان کی صورت میں بھی اگر سودی معاملہ کرنا پڑتا ہو تو یہ عمل بلا شبہ ناجائز ہے، اس سے احتراز لازم ہے، جبکہ سید کو زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ دینا شرعاً جائز نہیں ہے، چنانچہ اگر مذکور قاری صاحب واقعۃً محتاج ہیں تو صاحبِ حیثیت لوگوں کو چاہیئے کہ وہ مذکور قاری صاحب کی مدد زکوٰۃ اور صدقاتِ واجبہ کے علاوہ دیگر رقوم سے کریں، جبکہ حیلۂ تملیک کی صورت یہ ہے کہ صاحبِ حیثیت لوگ مستحقِ زکوٰۃ شخص کو زکوٰۃ یا صدقاتِ واجبہ کی رقم مالکانہ قبضہ کے ساتھ دیدیں اور پھر وہ اپنے اختیار سے کل رقم یا اپنی ضرورت کے لئے کچھ رقم رکھنے کے بعد بقیہ رقم مذکور قاری صاحب کو دیدیں تو اس رقم کو مذکور قاری صاحب اپنے ذاتی استعمال میں خرچ کرسکتے ہیں۔
قال اللہ تعالی: وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا اھ ( سورۃ البقرۃ: 275)۔
وفی البحر الرائق: (قوله وبني هاشم ومواليهم) أي لا يجوز الدفع لهم لحديث البخاري «نحن - أهل بيت - لا تحل لنا الصدقة» ولحديث أبي داود «مولى القوم من أنفسهم، وإنا لا تحل لنا الصدقة» قد أطلق في بني هاشم فشمل من كان ناصرا للنبي - صلى الله عليه وسلم - ومن لم يكن ناصرا له منهم كولد أبي لهب فيدخل من أسلم منهم في حرمة الصدقة لكونه هاشميا الخ ( ج 2 ص 265 )۔
وفی الدر المختار: الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره والظاهر نعم (ولا) إلى (من بينهما ولاد) ولو مملوكا لفقير (أو) بينهما (زوجية) ولو مبانة وقالا تدفع هي لزوجها الخ ( ج 2 ص 345 ط: سعید)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0