السلام و علیکم ورحمتہ اللہ وبرکاتہ! محترم مفتی صاحب! ہمارے صدقات، خیرات اور زکوٰۃ کے ترجیحی مصارف کون کون سے ہیں؟،مقامی غرباء، مساکین، دینی مدارس، تبلیغی مراکز، فلسطینی مسلمانوں کی امداد، اسلامک دعوہ سنٹرز UK وغیرہ وغیرہ، ان مصارف میں سے پہلی دوسری تیسری ترجیح کون کون سے مصرف کو ہوگی؟ جس میں اجر زیادہ ہو۔
واضح ہوکہ صدقات، خیرات اور زکوۃ کے ترجیحی مصارف حالات، حاجات اور انفع ہونے کے اعتبار سے وقت کے ساتھ بدلتے رہتے ہیں، لہذا جس وقت جہاں زیادہ ضرورت و احتیاج پائی جائے، وہاں صدقات، خیرات اور زکوۃ دینے میں زیادہ نفع و ثواب ہوگا، چنانچہ فی الوقت فلسطینی مظلوم اور ضرورت مند مسلمانوں کی اعانت کو علماء اولین ترجیح قرار دے رہے ہیں، جس کے بعد بالترتیب مقامی غرباء، مساکین، دینی مدارس، تبلیغی مراکز، اور اسلامک دعوۃ سینٹرز وغیرہ میں سے جو بھی حالات کے اعتبار سے زیادہ ضرورت مند ہو، وہ شرعاً ترجیحی مصرف شمار ہوگا۔
کما فی ردالمحتار: تحت(قولہ: ورجح فی البزازیۃ افضلیۃ الحج)(الی قولہ) قال الرحمتی: والحق التفضیل فما کانت الحاجۃ فیہ اکثر والمنفعۃ فیہ اشمل فھو الافضل کما ورد "حجۃ افضل من عشر غزوات" وورد عکسہ فیحمل علی ماکان انفع فاذا کان اشجع وانفع فی الحرب فجھادہ افضل من حجۃ او بالعکس فحجۃ افضل وکذا بناء الرباط ان کان محتاجا الیہ کان افضل من الصدقۃ وحج النفل واذا کان الفقیر مضطرا او من اھل الصلاح او من آل بیت النبی ﷺ فقد یکون اکرامہ افضل من حجات وعمر وبناء الرباط الخ (ج2 صـ621 کتاب الزکاۃ ط: سعید)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0