میں صاحب نصاب کو زکوۃ دینے میں الجھن کا شکار ہوں، اس لئے میرا سوال یہ ہےکہ آج کے حساب سے صاحب نصاب ہونے کی مالیت تقریباً ایک لاکھ چالس ہزار ( 1,40,000) روپے ہے،(جو 52.5 تولہ چاندی کی قیمت ہے) تو اگر کسی کے پاس 140,000 روپے ہیں تو کیا میں اسے زکوٰۃ نہیں دےسکتا؟
واضح ہو کہ جس شخص کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر نقدی ، مال تجارت اور ضرورتِ اصلیہ سے زائد سامان موجود نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو تو شرعاً وہ مستحق زکوٰۃ ہے، ایسے شخص کو زکوٰۃ دینے سے زکوۃ ادا ہوجائیگی، صورت مسئولہ میں جس شخص کی ملکیت میں 140,000 (ایک لاکھ چالیس ہزار ) روپے موجود ہو ں اور وہ مقروض بھی نہ ہو تو وہ مستحق زکوٰۃ نہیں ، لہذا ایسے شخص کو زکوۃ کی رقم دینا شرعاً جائز نہیں، جس سے احتراز لازم ہے۔
كما في الدر المختار : أي مصرف الزكاة ( إلى قوله ) (هو الفقير وهو من له ادنی شيئ أى دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ ( باب المصرف، ج ۲ ، ص ۳۳۹ ، ط: سعيد) ۔
وفي الهندية، ولا يجوز دفع الزكاة الى من یملك نصاباً أي مال كان دنانیر اودراهم أو سوائم او عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهد اھ (ج ا ص ١8٩ ط: ماجدية )۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0