صدقات واجبہ میں سے اساتذہ کو ماہانہ وظیفہ دینا جائز ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کی ادائیگی درست ہونے کے لئے زکوۃ کی رقم کسی مستحق زکوٰۃ شخص کو بلا کسی عوض باقاعدہ مالکانہ طورپر حوالہ کردینا لازم اور ضروری ہے، لہذا تملیک شرعی کے بغیر زکوٰۃ اور صدقات واجبہ کی رقم کسی استاد کو بطور ماہانہ وظیفہ (اجرت و تنخواہ) دینا جائز نہیں اور اس سے زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ بھی ادانہ ہوگی۔
کما فی الدر المختار: ولو دفعها المعلم لخليفته إن كان بحيث يعمل له لو لم يعطه وإلا لا الخ (ج2، ص 356،ط: سعید)۔
وفی رد المحتار: تحت (قوله : وإلا لا ) أي ; لأن المدفوع يكون بمنزلة العوض اھ (ج2، ص 356،ط: سعید)۔
وفى الهندية : فهى تملیک المال من فقير مسلم غير هاشمي والموالاۃ بشرط قطع المنفعۃ عن المملک من كل وجه لله تعالى هذا في الشرع كذا فى التبيين اهـ (ج1، ص170، ط:ماجدیۃ)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0