کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک مریض ہسپتال میں علاج کے لئے آیا تو اس وقت وہ مستحقِ زکوٰۃ نہیں تھا، جب علاج ہوتا رہا تو بیماری بڑھنے کی وجہ سے وہ مریض وینٹی لیٹر پر بے ہوش ہو کر علاج چلتا رہا، لیکن اس دوران اس کے پیسے ختم ہو گئے تھے، تو گویا کہ وہ زکوۃ کا مستحق بن گیا، تو آیا اب چونکہ مریض خود بے ہوش ہے ، تو کیا زکوٰۃ کی مد میں اس پر علاج کے اخرجات ادا کیے جا سکتے ہیں؟ اور حال یہ ہے کہ اس مریض نے کوئی وکالت فارم وغیرہ فل نہیں کیا تھا۔
واضح ہو کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لئے کسی مستحقِ زکوٰۃ شخص کو بغیر کسی عوض کے زکوٰۃ کا مالک بنا دینا لازم اور ضروری ہے، لہٰذا مذکور شخص جو بے ہوشی کی حالت میں ہے، اس کا زکوٰۃ کی رقم سے علاج و معالجہ کرنے سے زکوٰۃ دینے والوں کی زکوٰۃ ادا نہ ہوگی، البتہ اگر مذکور شخص کے عزیز و اقارب میں سے کوئی شخص مستحقِ زکوٰۃ ہو، اور اُسے زکوٰۃ کی رقم دی جائے ، جو مذکور شخص کے علاج معالجے پر خرچ کرے تو ایسا کرنا بلاشبہ جائز اور درست ہوگا۔
کما فی الدر المختار: (هي) لغة الطهارة والنماء، وشرعا (تمليك) خرج الإباحة، فلو أطعم يتيما ناويا الزكاة لا يجزيه إلا إذا دفع إليه المطعوم كما لو كساه بشرط أن يعقل القبض إلا إذا حكم عليه بنفقتهم (جزء مال) خرج المنفعة، فلو أسكن فقيرا داره سنة ناويا لا يجزيه (عينه الشارع) وهو ربع عشر نصاب حولي خرج النافلة والفطرة (من مسلم فقير) ولو معتوها (غير هاشمي ولا مولاه) أي معتقه، وهذا معنى قول الكنز تمليك المال: أي المعهود إخراجه شرعا (مع قطع المنفعة عن المملك من كل وجه) فلا يدفع لأصله وفرعه (لله تعالى) بيان لاشتراط النية و الإسلام والحرية) والعلم به ولو حكما ككونه في دارنا (وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب. الخ ( کتاب الزکوٰۃ ج 2 ص 256 ط: سعید )۔
وفیہ ایضاً: الحيلة أن يتصدق على الفقير ثم يأمره بفعل هذه الأشياء وهل له أن يخالف أمره؟ لم أره والظاهر نعم الخ
وفی رد المحتار تحت (قوله ثم يأمره إلخ) ويكون له ثواب الزكاة وللفقير ثواب هذه القرب بحر وفي التعبير بثم إشارة إلى أنه لو أمره أولا لا يجزئ؛ لأنه يكون وكيلا عنه في ذلك وفيه نظر؛ لأن المعتبر نية الدافع ولذا جازت وإن سماها قرضا أو هبة في الأصح كما قدمناه فافهم.الخ ( ج 2 ص 345 ط: سعید )۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0