السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ! آپ سے تراویح کے بارے میں چند باتیں پوچھنی ہیں:
۱۔ تراویح قرآن و حدیث سے کیا ہے ؟ نفل ، سنت یا سنتِ مؤکدہ ؟
۲۔ قرآن و حدیث کی روشنی میں بتایۓ کہ کیا تراویح پڑھنا لازمی ہے ،یا آٹھ رکعات پڑھیں جائے تو کیا اس کے چھوڑنے یا کم پڑھنے سے گناہ ہو گا ؟
۳۔ کیا رمضان میں قرآن ایک بار پڑھ کر تراویح میں ختم کرنا ضروری ہے؟
۴۔ جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ بیس رکعات تراویح آپ ﷺ سے ثابت نہیں، اور جو بیس رکعات ہیں وہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنے دور میں پڑھانی شروع کیں ، اس کو چھوڑنا یا نہ پڑھنا گناہ نہیں، تو اس کا کیا جواب ہوگا ؟
۵۔ آپ ﷺ کے بعد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے اپنے وقت میں کتنی رکعات تراویح پڑھیں یا پڑھانے کا حکم دیا ؟
واضح ہو کہ تراویح پڑھنا سنتِ مؤکدہ ہے ، اور پھر یہ بیس رکعات پڑھنا اور ان میں ایک مرتبہ قرآن کریم کا ختم کرنا یہ دونوں امور بھی مستقل سنت ہیں اور اس پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانۂ خلافت میں صحابہ کرام رضوان اللہ عنہم اجمعین کا اجماع ثابت ہے، اس کے خلاف کرنا گناہ کی بات ہے، جس سے احتراز چاہیۓ ، جبکہ آٹھ رکعات کا رمضان اور غیر رمضان ہر دو اوقات میں پڑھنا آپ ﷺ سے ثابت ہے ، اس سے تراویح پر یا تراویح کی آٹھ رکعات ہونے پر استدلال درست نہیں۔
في السنن الكبرى للبيهقي : عن أبي هريرة قال : خرج رسول الله صلى الله عليه و سلم فإذا أناس في رمضان يصلون في ناحية المسجد ، فقال : ما هؤلاء ؟ فقيل : هؤلاء أناس ليس معهم قرآن ، و أبي بن كعب يصلي و هم يصلون بصلاته ، فقال النبي صلى الله عليه و سلم : أصابوا ، و نعم ما صنعوا ، اھ (2/ 697)۔
و فیه أيضاً : عن السائب بن يزيد قال : كانوا يقومون على عهد عمر بن الخطاب رضي الله عنه في شهر رمضان بعشرين ركعة اھ (2/ 699)۔
و فیه أيضاً : و روينا عن شتير بن شكل ، و كان من أصحاب علي رضي الله عنه " أنه كان يؤمهم في شهر رمضان بعشرين ركعة ، و يوتر بثلاث " اھ (2/ 699)۔
و في صحيح البخاري : عن أبي سلمة بن عبد الرحمن ، أنه سأل عائشة رضي الله عنها : كيف كانت صلاة رسول الله صلى الله عليه و سلم في رمضان ؟ قالت : ما كان يزيد في رمضان و لا في غيره على إحدى عشرة ركعة ، يصلي أربع ركعات ، فلا تسأل عن حسنهن و طولهن ، ثم يصلي أربعا ، فلا تسأل عن حسنهن و طولهن ، ثم يصلي ثلاثا ، فقلت : يا رسول الله تنام قبل أن توتر ؟ قال : «تنام عيني و لا ينام قلبي» اھ (4/ 191)۔
و في الدر المختار : (التراويح سنة) مؤكدة لمواظبة الخلفاء الراشدين (للرجال و النساء) إجماعا (الى قوله) (و هي عشرون ركعة) حكمته مساواة المكمل للمكمل (بعشر تسليمات) (الى قوله) (و الختم) مرة سنة و مرتين فضيلة و ثلاثا أفضل . اھ (2/ 43)۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0