۱۔ ۲۰ رکعات تراویح اور وتر باجماعت پڑھنے کے بعد تہجد کی نماز نہیں پڑھ سکتے؟ بعض حضرات فرماتے ہیں کہ ۲۰ رکعات میں سے ۱۲ رکعت تہجد کی نماز ہے۔
۲۔شریعت میں عیدی کے پیسے دینے کا کیا حکم ہے ؟اور اگر یہ حکم نہیں تو کیا یہ بدعت کے زمرے میں نہیں آئے گا؟
۱۔ واضح ہو کہ تراویح اور تہجد دونوں الگ الگ نمازیں ہیں، لہٰذا بیس رکعات تراویح میں تہجد کو شمار کرنا اور ان کو ایک سمجھنا دین سے ناواقفی اور جہالت پر مبنی ہے، کیونکہ حضراتِ فقہاءِ کرام نے نمازِ تراویح اور تہجد کے لۓ الگ الگ ابواب ترتیب دیے ہیں اور درجِ ذیل احادیثِ مبارکہ سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے، لہٰذا تراویح کے بعد بھی تہجد پڑھنے میں کوئی حرج نہیں، بلکہ بلاشبہ پڑھ سکتے ہیں۔
۲۔شرعاً اس کا کوئی ثبوت نہیں ، البتہ عجم میں اس طرح کی خوشی کے موقع پر بعض لوگ عیدی وغیرہ دینے کا اہتمام کرتے ہیں، اگر اسے لازم و واجب کا درجہ نہ دیا جائے تو یہ محض اظہارِ مسرت کا طریقہ ہے، اس میں شرعاً کوئی حرج بھی نہیں۔
فی صحيح مسلم : عن أنس رضي الله عنه ، قال : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم ، يصلي في رمضان ، فجئت فقمت إلى جنبه و جاء رجل آخر ، فقام أيضا حتى كنا رهطا فلما احس النبي صلى الله عليه و سلم أنا خلفه جعل يتجوز في الصلاة ، ثم دخل رحله ، فصلى صلاة لا يصليها عندنا ، قال : قلنا له : حين أصبحنا أفطنت لنا الليلة قال : فقال : «نعم ، ذاك الذي حملني على الذي صنعت» اھ (2/ 775)۔
و فی شعب الإيمان : عن عائشة ، قالت : كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا دخل رمضان تغير لونه ، و كثرت صلاته ، و ابتهل في الدعاء ، و أشفق منه اھ (5/ 234)۔
و فیه أیضاً : عن عائشة ، زوج النبي صلى الله عليه و سلم أنها قالت: كان رسول الله صلى الله عليه و سلم إذا دخل شهر رمضان شد مئزره ، ثم لم يأت فراشه حتى ينسلخ " اھ (5/ 234)۔
و فی الدر المختار : دفع الزكاة إلى صبيان أقاربه برسم عيد أو إلى مبشر أو مهدي الباكورة جاز اھ (2/ 356)۔
مستقل امامِ مسجد جو تراویح میں ختمِ قرآن بحی کرے ،اسے کچھ زائد ہدیہ دینے کی جائز صورت- داڑھی کو سیاہ رنگ لگانا
یونیکوڈ تراویح 0