نکاح

یونیورسٹی کے دوستوں کا مزاح میں آپس میں ایجاب و قبول کرنے سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
72364
| تاریخ :
2024-04-05
معاملات / احکام نکاح / نکاح

یونیورسٹی کے دوستوں کا مزاح میں آپس میں ایجاب و قبول کرنے سے نکاح کا حکم

یونیورسٹی میں ہم لڑکے لڑکیاں ایک ساتھ بیٹھے تھے اور نکاح کی بات کر رہے تھے۔ سب ایک لڑکے کو کہہ رہے تھے کہ پاس ہی مسجد ہے ،تم نکاح کر لو ،اس نے جواب میں کہا کہ ابھی مولوی صاحب مسجد میں نہیں ہیں۔ ہم نے جا کر دیکھا بھی ، تو نہیں تھے۔ اس نے ایک لڑکی سے ”قبول ہے“ بولنے کا پوچھا ، لڑکی نے یہ کہہ کر منع کر دیا کہ جب کرنا نہیں ہے تو کیوں بولے ؟ پھر اس نے ایک اور لڑکی سے انگلش میں "I DO" بول کے قبول کرنے کا کہا تو اس نے پوچھنے کے انداز میں بولا "i do کیوں ، لیکن لڑکے نے جواب میں کچھ نہیں کہا ، کیوں کہ وہ اس وقت ہی وہاں آئی تھی اور اسے پچھلی کسی بات کا نہیں پتا تھا۔پھر اس لڑکے نے مجھے کہا ”بولو “ تو میں نے کہا ”I do “ پھر اس نے بھی کہا i do ، اس طرح ہم دونوں نے 3 مرتبہ کہا ، پھر میں نے ایک مرتبہ اور کہہ دیا i do اور کہہ کہ سوچا کہ ایک بار زیادہ کہہ دیا ہے میں نے۔ پھر ہم سب نکاح کی بات کرنے لگے کہ فقہی لحاظ سے کس طرح ہوتا ہے؟کس طرح نہیں ؟اور فلموں ڈراموں میں بولنے سے ہوتا ہےیا نہیں ، پھر ایک کلاس کی لڑکی نے بولا کہ تم نے حق مہر تو بولا ہی نہیں تو اس نے حق مہر کی رقم بھی بولی۔میرے گھر والوں کو وہ پہلے ہی سے پسند تھا شادی کے لیے ، لیکن اس بات کا نہیں پتا۔ میرے بڑے بھائی بھی یونیورسٹی میں ہی تھے ،لیکن اپنی کلاس میں تھے اس وقت۔کیا اب ہم لوگ شادی شدہ زندگی گزارنا شروع کر دیں اور والدین کو بھی بتا دیں اس کا ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورتِ مسئولہ میں اگر سائلہ اور مذکور لڑکے نے صرف I do کہا ہو ، باقاعدہ شرعی گواہان کی موجودگی میں ایجاب و قبول پر مشتمل الفاظ نہ کہے ہوں تو اس سے نکاح منعقد نہیں ہوا ، بلکہ دونوں ابھی بھی ایک دوسرے کے لیے اجنبی ہیں ، تاہم نکاح جیسے عمل کو اس طرح مذاق بنانے پر وہ اور ان کے ساتھ موجود سارے لوگ سخت گنہگار ہوئے ہیں ،لہذا اس مجلس میں موجود تمام لڑکے اور لڑکیوں پر لازم ہے کہ وہ اپنے اس فعل پر بصدقِ دل ندامت کے ساتھ توبہ و استغفار کریں اور آئندہ سے اس قسم کی لغویانہ حرکات سے مکمل اجتناب کریں ،جبکہ سائلہ اگر اس لڑکے کے ساتھ شادی کرنے کی خواہشمند ہو تو از خود کوئی قدم اٹھانے کی بجائے والدین کی رضامندی سے عقد صحیح کے ساتھ نکاح کر لے۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد شاہ کریم عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72364کی تصدیق کریں
0     20
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات