نکاح

بیٹے کی سالی سے نکاح کرنا

فتوی نمبر :
72498
| تاریخ :
2024-04-14
معاملات / احکام نکاح / نکاح

بیٹے کی سالی سے نکاح کرنا

السلام علیکم و رحمۃ اللہ وبرکاتہ! میری والدہ صاحبہ کا انتقال ہو چکا ہے،کیا میرے والد صاحب میری سالی سے نکاح کر سکتے ہیں،قران و سنت کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں،جزاک اللہ خیرا

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ بہو کی بہن چونکہ غیر محرم ہوتی ہے، اس لئے صورت مسؤلہ میں سائل کے والد کا اپنی بہو کی بہن سے نکاح کرنا شرعاً جائز ہے، بشرطیکہ حرمت کی کوئی اور وجہ نہ پائی جاتی ہو۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: (حرم) على المتزوج ذكرا كان أو أنثى نكاح (أصله وفروعه) علا أو نزل(وبنت أخيه وأخته وبنتها) ولو من زنى (وعمته وخالته) فهذه السبعةمذكورة في آيةحرمت عليكم أمهاتكم الخ(فصل فی المحرمات، ج 3، ص28، ط: سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد خباب ارباب عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72498کی تصدیق کریں
0     839
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات