کیا فرماتے ہیں مفتیان ِکرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زکوٰۃ کے فنڈز کا استعمال مکمل آن لائن اسلامی تعلیمی ادارہ، DML QURAN، کے لئے ممکن ہے؟ اور اگر ہاں، تو فنڈز کی تقسیم کس طرح ہوگی؟ جزاک اللهُ خيراً
واضح ہوکہ زکوٰۃ کی رقم مستحق ِزکوٰۃ افراد کو بلا معاوضہ مالکانہ طور پر دینا شرعاً لازم ہے، اس کے بغیر زکوٰۃ ادانہ ہوگی، چنانچہ اگر مذکور ادارہ بھی زکوٰۃ کی رقم مستحق طلبہ کو مالکانہ طور پر دے تو اس سے زکوٰۃ ادا ہوجائیگی، لیکن تملیک کے بغیر براہ راست زکوٰۃ کی رقم اساتذہ کی تنخواہوں میں یا دیگر تعمیرات و غیرہ میں خرچ کرنا درست نہیں اور اس سے اصل مالکان کی زکوٰۃ بھی ادا نہ ہوگی۔
کما فی الدر المختار: ولا يخرج عن العهدة بالعزل بل بالأداء للفقراء الخ (ج2، ص 270، ط:سعید)۔
وفی رد المحتار: وفي الخلاصة كما في البزازية: والحاصل أن الوكيل وكالة عامة يملك كل شيء إلا الطلاق والعتاق والوقف والهبة والصدقة على المفتى به الخ (ج5، ص 510، ط:سعید)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0