اگر لڑکا تیس سال کا ہو، ملازمت بھی کرتا ہو، اپنی مرضی سے شادی کرنا چاہتا ہو، اس کے والد راضی نہ ہو دوسرے گھریلو مسائل کی بناء پر، تو کیا وہ شادی کرسکتاہے؟ اس کی فیملی سے کوئی شامل نہ ہو ڈرکی وجہ سے کہ والد بااثر ہیں، تو کیا نکاح جائز ہے؟ اس کے والد کی دوسری شادی ہے، والدہ بھی نہیں ہے۔
سائل نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ دیگر گھریلو مسائل سے کیا مراد ہے تاکہ اس کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم لڑکے کےلئے والد کی اجازت و رضامندی کے بغیر کیا جانے والا نکاح اگرچہ شرعاً جائز اور منعقد ہوجاتاہے، لیکن نکاح جیسا عظیم معاملہ والد کی اجازت و رضامندی کے بغیر انجام دینے کے بجائے بہتر یہ ہے کہ مناسب رشتہ مل جانے پر والد کو منانے کی پوری کوشش کی جائے، تاہم اگر سائل کا والد بغیر کسی واقعی عذر کسی صورت ماننے کےلئے تیار نہ ہو تو سائل کا اپنی پاکدامنی کےلئے کسی دیندار لڑکی کے ساتھ نکاح کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں۔
کما فی مشکوۃ المصابیح: عن أبي سعيد وابن عباس قالا: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «من ولد له ولد فليحسن اسمه وأدبه فإذا بلغ فليزوجه فإن بلغ ولم يزوجه فأصاب إثما فإنما إثمه على أبيه» الحدیث (ج2،صـــ271،ط:قدیمی)۔
وفی الدر المختار: (ويكون واجبا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض نهاية وهذا إن ملك المهر والنفقة، وإلا فلا إثم بتركه بدائع اھ (ج3،صـــ6،ط:سعید)۔
وفی بدائع الصنائع: أما الأول فنقول: لا خلاف أن النكاح فرض حالة التوقان، حتى أن من تاقت نفسه إلى النساء بحيث لا يمكنه الصبر عنهن وهو قادر على المهر والنفقة ولم يتزوج يأثم إلخ (ج2،صـــ228،ط:سعید)۔