گزارش ہے کہ میں محمد اسلم ولد محمد عمر میری عمر (56) سال ہے , میری دوسری شادی ہوئی تھی ، رابعہ بنت عبدالعزیز جس کی عمر (45) سال تھی ، اور ساتھ میں اس کا بیٹا بھی لیا تھا جس کی عمر (9) سال تھی ، میری شادی مؤرخہ 2023۔01۔06 کو ہوئی,
جس میں نکاح ان کے گھر میں پڑھا گیا تھا ، پہلے دن ہی معاملات خراب ہوگئے تھے ، پھر میں نے تین چار دن بعد اس کو گھر بھیج دیا ، پھر تین دن بعد میں اس کو دوبارہ گھر پر لے آیا، پھر بھی اس کا رویہ صحیح نہیں رہا ، 2023۔01 ۔22 کو (8) دن بعد واپس اپنے گھر چلی گئی، اس کے بعد نہیں آئی اور نکاح ان کے گھر ہوا تھا اور نکاح نامہ ان کے قبضہ میں ہے، پھر ہم نے بہت کوشش کی ان کو لانے کی ، مگر وہ نہیں آئی ، پھر مزید (11) ماہ انتظار کرنے کے بعد میں نے عدالت میں کیس کیا مؤرخہ 2024۔ 01 ۔17 اس کیس کو چار ماہ ہوگئے ، مگر کیس حل نہیں ہو رہا، وہ مزید کیس کو آگے بڑھا رہے ہیں ، اور وہ آہی نہیں رہی، ہماری شادی کو (16) ماہ ہوگئے , میری والدہ ان کی عمر (85) ہے اور ایک میرا بیٹا جس کی عمر (19) سال ہے ، جس کی وجہ سے گھر میں عورت نہ ہونے سے بہت پریشانی ہے ماں کو کام کرنا پڑتا ہے ، جس کے باعث میں تیسری شادی کرنا چاہتاہوں۔
واضح ہو کہ نکاح ہوجانے کے بعد میاں بیوی کے ذمہ ایک دوسرے کے بہت سے حقوق شرعاً لازم ہوجاتے ہیں ، جس کی پاسداری کرنا فریقین کے ذمہ لازم اور اس میں کمی کوتاہی کرنا باعث گناہ ہے ، لہذا جب سائل اور اس کی بیوی کا نکاح باہمی رضامندی سے ہوچکا ہے ، تو اب بیوی کا اپنے شوہر کی نافرمانی کرنا سخت گناہ ہے ، اور احادیث مبارکہ میں اس پر بہت سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں ، چنانچہ ایک روایت مبارکہ میں آتاہے ، کہ جو عورت بغیر کسی عذر کے اپنے شوہر کو حق زوجیت ادا کرنے سے انکار کرے تو فرشتے صبح تک اس پر لعنت بھیجتے رہتے ہیں ، اور دوسری حدیث میں ارشاد نبوی ﷺ ہے، (بالفرض ) اگر میں کسی کو اللہ تعالی کے علاوہ کسی کے سامنے سجدہ کرنے کا حکم دیتا تو بیوی سے کہتا کہ وہ اپنے شوہر کو سجدہ کرے ، لہذا صورت مسئولہ میں سائل اور اس کی بیوی کو چاہیئے کہ ماضی کی تلخ یادوں کو بھلادیں اور ایک دوسرے کو دل سے معاف کرکے خوش اسلوبی سے زندگی گزاریں اس سے امید ہے کہ سب کچھ ٹھیک ہوجائیگا، تاہم اگر ہر ممکن کوشش کے باوجود آپس میں حدود اللہ کی رعایت رکھتے ہوئے اس رشتے کو برقرار رکھنا مشکل ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں سائل اس کو ایک طلاق دے کر اپنی زوجیت سے علیحدہ بھی کرسکتا ہے، اور اس صورت میں سائل گناہ گار بھی نہ ہوگا ، جبکہ سائل کے لئے تیسری شادی کرنا شرعاً جائز ہے۔
قال اللہ تعالی: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً أَوْ مَا مَلَكَتْ أَيْمَانُكُمْ ذَلِكَ أَدْنَى أَلَّا تَعُولُوا (سورۃ النساء آیۃ 3)۔
وفی صحیح البخاری: عن أبي هريرة رضيَ اللهُ عنه قالَ: قالَ رسولُ اللهِ - صلى الله عليه وسلم إذا دعا الرجلُ امرأتَهُ إلى فراشِهِ، فأبَتْ أنْ تَجِيءَ فباتَ غضبانَ عليها [150/6](وفي طريق: إذا باتَتِ المرأةُ مهاجرةً فراشَ زوجِها)؛ لَعَنَتْها الملائِكَةُ حتى تُصْبِحَ (ج2 ص 387 باب إذا قالَ أحدُكُم: آمينَ، والملائكةُ في السماء: آمينَ،)۔
وفی مشکاۃ المصابیح: وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عَلَيْهِ وَسلم: «لَو كُنْتُ آمُرُ أَحَدًا أَنْ يَسْجُدَ لِأَحَدٍ لَأَمَرْتُ الْمَرْأَة أَن تسْجد لزَوجهَا» . رَوَاهُ التِّرْمِذِيّ (ج 2 ص972 کتاب النکاح باب عشرۃ النساءط قدیمی)۔