میری ایک رشتہ دار کے پاس تقریباً 5 گرام سونا ہے، لیکن وہ غریب ہے، اور اسکے پاس آمدنی کا کوئی ذریعہ نہیں، سوائے ان چیزوں کے جو اس کے شوہر نے اسے دی تھی، اسکی کوئی اولاد نہیں، اب اسے اپنی آنکھ کا آپریشن کروانا ہے، تو کیا ہم انہیں زکوٰۃ کی رقم دے سکتے ہیں؟ اگرچہ ہم نے یہ رقم اسکے شوہر کو دینے کی کوشش کی ، لیکن ممکن نہیں ہے،کیونکہ وہ ایسے پیسے قبول نہیں کرتا۔
واضح ہو کہ مذکور عورت کے پاس اگر محض 5 گرام سونا ہو اور اس کے علاوہ اس کے پاس کوئی چاندی یا ضرورت اصلیہ سے زائد کچھ بھی نقد رقم یا سامان موجود ہو نہ ہو اور وہ سیدہ بھی نہ ہو، تو وہ مستحق زکوٰۃ ہے،اس لئے اس کے آپریشن کے موقع پر زکوۃ کی رقم سے اس کی مدد کرنا اور عورت کا اس رقم کو اپنے استعمال میں لانا ہر دو امور شرعاً جائز اور درست ہوں گے۔
كما في الدر المختار : أي مصرف الزكاة ( إلى قوله ) (هو الفقير وهو من له ادنی شيئ أى دون نصاب أو قدر نصاب غير نام مستغرق في الحاجة الخ ( باب المصرف، ج ۲ ، ص ۳۳۹ ، ط: سعيد) ۔
وفي الهندية، ولا يجوز دفع الزكاة الى من یملك نصاباً أي مال كان دنانیر اودراهم أو سوائم او عروضاً للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة هكذا في الزاهد اھ (ج ا ص ١8٩ ط: ماجدية )۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0