نکاح

فون پر کئے ہوئے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
72689
| تاریخ :
2024-04-24
معاملات / احکام نکاح / نکاح

فون پر کئے ہوئے نکاح کا حکم

فون پر نکاح کیا ،تین دفعہ لڑکے اور لڑکی نے قبول بھی کیا ،اور حق مہر بھی رکھا گیا، اور لڑکے نے پاس بیٹھے اپنے چار بالغ بھائیوں سے کہا کہ میں نکاح کر رہا ہوں، تم لوگ ہمارے گواہ ہوں ، ان لوگوں نے ہاں کردی، اب کیا حکم ہے؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

واضح ہو کہ نکاح کرتے وقت لڑکا، لڑکی یا ان کی طرف سے مقرر کردہ وکیل اور گواہوں کا ایک مجلس میں ہونا اور ان گواہوں کے سامنے اس طرح ایجاب و قبول کرنا کہ گواہ بھی اسے سن لیں صحت نکاح کے لئے شرط ہے، اس کے بغیر شرعاً نکاح منعقد نہیں ہوتا، اس لئے سوال میں ذکر کردہ طریقہ کار کے مطابق لڑکا، لڑکی اور گواہان کی مجلس چونکہ مختلف ہے، اس لئے یہ نکاح درست منعقد نہیں ہوا، بلکہ یہ دونوں بدستور اجنبی اور ایک دوسرے کے لئے نامحرم ہیں، اس لئے اس نکاح کو بنیاد بنا کر ایک دوسرے کے ساتھ کسی بھی قسم کا تعلق یا بے تکلفی اختیار کرنا شرعاً جائز نہیں، اس سے اجتناب لازم ہے۔

مأخَذُ الفَتوی

کما فی الدر المختار: ومن شرائط الإيجاب والقبول: اتحاد المجلس لو حاضرين، وإن طال الخ (ج۳، ص۱۴، کتاب النکاح، ط۔سعید)۔
وفیہ ایضاً: (وشرط سماع كل من العاقدين لفظ الآخر) ليتحقق رضاهما.(و) شرط (حضور) شاهدين(حرين) أو حر وحرتين (مكلفين سامعين قولهما معا) الخ (ج۳، ص۲۱،۲۲، کتاب النکاح، ط۔سعید)۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمد صدیق سردار عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72689کی تصدیق کریں
0     573
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات