السلام علیکم !
میں ایک28 سالہ خاتون ہوں کچھ وقت سےکینیڈا میں آزادانہ طور پر زندگی گزار رہی ہوں، میرےایک عیسائی لڑکے سے تعلقات ہیں اور اب ہم شادی کرنا چاہتے ہیں ، وہ صرف شادی کی خاطر میرا عقیدہ قبول کرنے کو تیار ہے، اس حقیقت کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ اسلام ہی واحد صحیح مذہب ہے ، اس کے بعد کی زندگی اسلام قبول کر کے بچائی جا سکتی ہے ، مجھے اس معاملے میں ماہرانہ رائے درکار ہے ،کیا میں اس شخص سے شادی کرسکتی ہوں جو اسلام قبول کرنا چاہتا ہے ، کیونکہ وہ مجھ سے محبت کرتا ہے۔
واضح ہو کہ کوئی عیسائی لڑکا اگر اسلام کی حقانیت اور اسلام کو دیگر مذاہب کے مقابلے میں صحیح مذہب سمجھ کر سچے دل سے مسلمان ہوجائے اور اسلام قبول کرکے اسی کے مطابق اپنی زندگی گزارنے کا پکا ارادہ کر لے ،محض شادی کی غرض سے مذہب کی آڑکو ختم کرنا نہ چاہتا ہو ، تو ایسی صورت میں ایسے لڑکے سے کسی بھی مسلمان لڑکی کا نکاح بلا شبہ جائز اور درست ہے ، شرعاً اس میں کوئی حرج نہیں ، لہذا صورتِ مسئولہ میں مذکور عیسائی لڑکا اگر سچے دل سے اسلام قبول کرے اور اس کے بعد سائلہ اگر والدین اور اولیاء کی اجازت اور رضامندی سے نکاح کرلے، تو شرعاً ایسا کرنا جائز اور درست ہوگا ، تاہم اسلام قبول کرنے میں شادی وغیرہ دیگر دنیاوی اغراض کو پیش نظر رکھنا قطعاً مناسب نہیں ،اس لئے مذکور لڑکے کو چاہیئے کہ اسلام جیسی نعمت کے حصول میں اغراضِ فاسدہ اور خواہشات نفسانیہ سے بچنے کی کوشش کرے ، جبکہ سائلہ کا نکاح سے قبل مذکور عیسائی لڑکے سےتعلقات رکھنا شرعاً جائز نہیں تھا ، جس پر سائلہ کو بصدقِِ دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے ایسے امور سے اجتناب لازم ہے ۔
كما قال الله تعالى : وَلَا تَنْكِحُوا الْمُشْرِكَاتِ حَتَّى يُؤْمِنَّ وَلَأَمَةٌ مُؤْمِنَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكَةٍ وَلَوْ أَعْجَبَتْكُمْ وَلَا تُنْكِحُوا الْمُشْرِكِينَ حَتَّى يُؤْمِنُوا وَلَعَبْدٌ مُؤْمِنٌ خَيْرٌ مِنْ مُشْرِكٍ وَلَوْ أَعْجَبَكُمْ أُولَئِكَ يَدْعُونَ إِلَى النَّارِ وَاللَّهُ يَدْعُو إِلَى الْجَنَّةِ وَالْمَغْفِرَةِ بِإِذْنِهِ وَيُبَيِّنُ آيَاتِهِ لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَذَكَّرُونَ ( سورة البقرة، الأية : 221)-
و قال في أية أخرى : وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ( سورة المائدة، الأية : 2)-
و في تفسير ابن كثير : وقوله : { ولا تنكحوا المشركين حتى يؤمنوا } أي: لا تزوجوا الرجال المشركين النساء المؤمنات، كما قال تعالى : { لا هن حل لهم ولا هم يحلون لهن} [الممتحنة : 10]. ( ج 1، ص 584، ط : دار طيبة للنشر و التوزيع)-
و في صحيح البخاري : عن عمر بن الخطاب رضي الله عنه على المنبر، قال: سمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم، يقول: إنما الأعمال بالنيات، وإنما لكل امرئ ما نوى، فمن كانت هجرته إلى دنيا يصيبها، أو إلى امرأة ينكحها، فهجرته إلى ما هاجر إليه ( باب كيف كان بدء الوحي إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم ، ج 1، ص 6، السلطانية)-
و في تحفة الأحوذي بشرح جامع الترمذي : (فهجرته إلى ما هاجر إليه) أي منصرفة إلى الغرض الذي هاجر إليه فلا ثواب له لقوله تعالى من كان يريد حرث الآخرة نزد له في حرثه ومن كان يريد حرث الدنيا نؤته منها وما له في الآخرة من نصيب أو المعنى فهجرته مردودة أو قبيحة ( باب ما جاء في من يقاتل رياء وللدنيا، ج 5، ص 234، ط : دار الكتب العلمية)-
و في المبسوط للسرخسي : وكذلك إن كانت المرأة هي التي أسلمت، والزوج من أهل الكتاب أو من غير أهل الكتاب فهي امرأته حتى يعرض عليه الإسلام فإن أسلم، وإلا فرق بينهما الخ ( تزوج الذمي مسلمة حرة، ج 5، ص 45، ط : دار المعرفة، بيروت)-