السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ ! میرا سوال یہ ہے کہ کیا نکاح شرط کی بنیاد پر جائز ہے اسلام میں، جیسے کہ ماں باپ کہیں کہ اگر وہ شادی ہوتی ہےتو پھر یہ شادی بھی ہوگی ورنہ نہیں، اس کا معنیٰ یہ ہے کہ ایک نکاح کی بنیاد پے دوسرا نکاح ہورہا ہے۔
سائل کا سوال پوری طرح واضح نہیں کہ نکاح کی شرط کی بنیاد پر دوسرا نکاح کرنے سے ان کی کیا مراد ہے تاکہ اسی کے مطابق جواب دیا جاتا، تاہم اگر سائل کا سوال وٹہ سٹہ کے طور پر دو(2) رشتوں کو آپس میں جوڑنے کے متعلق ہو، تو جاننا چاہئے کہ فریقین میں سے کسی ایک فریق کا اپنی بیٹی کے رشتہ کے لئے اس شرط پر راضی ہو ناکہ دوسرا فریق اپنی بیٹی ان کے گھر کی بہو بنائے، تو یہ دراصل دونکاحوں کو آپس میں جوڑنا نہیں ہوتا، بلکہ خود کی بیٹی کے رشتہ پر رضامندی کو دوسرے فریق کی جانب سے ان کو بیٹی دینے پر موقوف کرنا ہوتا ہے، چنانچہ دونوں فریقین کی باہمی رضامندی کے بعد اگر ہر دو نکاح شرعی شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے کئے جائیں، تو یہ ہر دو نکاح شرعاً درست منعقد ہو کر میاں وبیوی کے درمیان رشتہ زوجیت قائم ہوجا تاہے، تاہم اس طرح کے نکاح کے نتیجہ میں عموماً بعد میں بہت ساری مشکلات پیش آتی ہیں، اس لئے اس طرح رشتوں کو جوڑنے سے اجتناب چاہئے۔
کما فی صحیح مسلم: عَنِ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَا شِغَارَ فِي الْإِسْلَامِ»(ج2 ص1035 باب ترک تحریم نکاح الشغار وبطلانہ رقم 1415)۔
وفی الدرالمختار: (ووجب مهر المثل في الشغار) هو أن يزوجه بنته على أن يزوجه الآخر بنته أو أخته مثلا معاوضة بالعقدين وهو منهي عنه لخلوه عن المهر، فأوجبنا فيه مهر المثل فلم يبق شغارا الخ (ج3 ص 106 باب المھر مطلب نکاح الشغار ط سعید)۔