جس لڑکی سے زنا کیا جائے اس سے نکاح ہوسکتا ہے؟اگر نکاح ہوجائے اس لڑکی سے تو کیا حکم ہے؛ نکاح برقرار رہے گا کہ نہیں ؟
واضح ہوکہ زنا کرنا گناہ کبیرہ ہے، اور زنا کے مرتکب مرد و عورت سخت گناہ گار ہوجاتے ہیں، لہذا اگر کسی مرد وعورت سے یہ گناہ سرزد ہوجائے ،تو انہیں اس پر بصدق دل توبہ و استغفار اور آئندہ کے لئے اس قبیح عمل سے اجتناب لازم ہے، تاہم اس گناہ کی وجہ سے ان کا آپس میں نکاح ناجائز اور حرام نہیں ہوتا، بلکہ ان کے لئے نکاح کرکے میاں بیوی کی طرح زندگی بسر کرنا جائز اور درست ہوگا۔
کما فی الھندیۃ: إذا تزوج امرأة قد زنى هو بها وظهر بها حبل فالنكاح جائز عند الكل وله أن يطأها عند الكل وتستحق النفقة عند الكل الخ(باب فی بیان المحرمات،ج1،ص280،ط:ماجدیہ)۔