السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ!
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا ایک سے زیادہ نکاح سنت ہے یا صرف جائز ہے؟ میں یہ جاننا چاہتا ہوں کہ ایک سے زیادہ نکاح سنت ہے یا نہیں ؟
احادیث مبارکہ کی رو سے نکاح فی نفسہ سنتِ ہے خواہ وہ پہلا نکاح ہو یا دوسرا ، تیسرا یا چوتھا , تاہم ایک سے زیادہ نکاح کرنے کیلئے شرط یہ ہے کہ شوہر ایک سے زیادہ بیویوں کے درمیان عدل اور برابری کی استطاعت رکھتا ہو چنانچہ اگر کوئی یہ استطاعت رکھتا ہو تو اسکے لئے ایک سے زیادہ شادیاں کرنا جائز ہوگا۔
کما قال اللہ تعالی: وَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تُقْسِطُوا فِي الْيَتَامَى فَانْكِحُوا مَا طَابَ لَكُمْ مِنَ النِّسَاءِ مَثْنَى وَثُلَاثَ وَرُبَاعَ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا تَعْدِلُوا فَوَاحِدَةً الآیۃ ( آیتـ 3 سورۃ النساء)
وفی تفسیر المظھری: أنہ یجوز لکل أحد نکاح ثنتین وکذا یجوز لکل نکاح ثلاث و کذا یجوز لکل نکاح اربع (إلی قولہ) لا یجوز أن یتزوج ما فوق الأربعۃ من النساء عند الأئمۃ الأربعۃ وجمھور المسلمین الخ (2/7)
وفی مشکاۃ المصابیح: عن أبی ھریرۃ رضی اللہ عنہ عن النبی ﷺ قال: إذا کانت عند الرجل امرأتان فلم یعدل بینھما جاء یوم القیامۃ وشقہ ساقط اھ (کتاب النکاح ج 2 صـ 23 ط: بشری)
وفی الدر المختار: (ويكون واجبا عند التوقان) فإن تيقن الزنا إلا به فرض نهاية وهذا إن ملك المهر والنفقة، وإلا فلا إثم بتركه بدائع (و) يكون (سنة) مؤكدة في الأصح فيأثم بتركه ويثاب إن نوى تحصينا وولدا (حال الاعتدال) أي القدرة على وطء ومهر ونفقة ورجح في النهر وجوبه للمواظبة عليه والإنكار على من رغب عنه ( ومكروها لخوف الجور) فإن تيقنه حرم ذلك الخ (کتاب النکاح ج 3 صـ 6،7 ط: سعید)