نکاح

رضاعی بھتیجی سے نکاح کا حکم

فتوی نمبر :
72757
| تاریخ :
2024-04-28
معاملات / احکام نکاح / نکاح

رضاعی بھتیجی سے نکاح کا حکم

کیا فرماتے ہیں علماء کرام ومفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں کہ !:
میں نے بچپن میں (مدت رضاعت میں) اپنی دادی کا دودھ پیا ہے اور اب میں اپنے چچا کی بیٹی سے نکاح کرنا چاہتا ہوں، جبکہ میرے چچا نے بھی میری دادی کا دودھ پیا ہے، اب سوال یہ ہے کہ کیا میرا ، میری اس چچا کی بیٹی سے نکاح کرنا جائز ہے یا نہیں ؟

الجوابُ حامِدا ًو مُصلیِّا ً

صورت مسئولہ میں سائل مدت رضاعت میں اپنی دادی کا دودھ پینے کی وجہ سے اس کا رضاعی بیٹا بن گیا ہے، او ر اسکی جملہ اولاد (بشمول اس چچا کے) سائل کی رضاعی بھائی، بہن بن چکی ہیں ، اور جس طرح حقیقی بھتیجی( بھائی کی بیٹی) سے نکاح کرنا جائز نہیں ،اسی طرح رضاعی بھتیجی سےبھی نکاح کرنا شرعا جائز نہیں ہے، لہذا سائل کا اپنے چچا کی بیٹی سے نکا ح کرناشرعا جائز نہیں ۔

واللہ تعالی اعلم بالصواب
محمدابراہیم خلیل عُفی عنه
دار الافتاء جامعه بنوریه عالمیه
فتوی نمبر 72757کی تصدیق کریں
0     909
Related Fatawa متعلقه فتاوی
Related Topics متعلقه موضوعات