15 مہینے پہلے میرا بیوی سے جھگڑا ہو اتھا ، انہوں نے مجھ سے طلاق مانگی ، میں نے غصے کی حالت میں ان کو ایک طلاق دے دی اس کے بعد وہ اپنی ماں کے گھر چلی گئی اور میں نے بہت کوشش کی کہ صلح ہو جائے اور باربار رابطہ کرنے پر بھی کوئی جواب نہیں ملا اور ہمارا رابطہ نہیں ہو پایا اور میں رابطہ کرنے میں ناکام رہا ، اس بارے میں رہنمائی فرمائیں کہ آیا ایک طلاق دینے سے طلاق واقع ہو گی یا نہیں ؟شریعت اس بارے میں کیا کہتی ہے؟رہنمائی فرمائیں ۔الفاظ طلاق یہ تھے کہ "تمہیں طلاق "۔
واضح ہو کہ غصہ اور جھگڑے کی حالت میں بھی طلاق دینے سے شرعاً طلاق واقع ہو جاتی ہے ، لہذا صورتِ مسؤلہ میں جب سائل نے اپنی بیوی کو مذکور الفاظ "تمھیں طلاق "کہہ دیے تو اس سے سائل کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو گئی ،اور شوہر کو دورانِ عدت رجوع کا حق حاصل تھا ، تاہم اگر دورانِ عدت شوہر نے زبانی رجوع نہ کیا ہو اور عورت کی عدت مکمل ہو چکی ہو (جیسا کہ بظاہر یہی معلوم ہو تا ہے )تو دونوں نکاح ختم ہو چکا ہے اور عورت دوسری جگہ نکاح کرنے میں آزاد ہے ، تاہم اب اگر میاں بیوی باہمی رضامندی سے دونوں ساتھ رہنا چاہیں تو دوبارہ نئے سرے سے شرعی گواہوں کی موجودگی میں نئے مہر اور باقاعدہ ایجاب وقبول کرنے کے بعد ساتھ رہ سکتے ہیں ، البتہ آئندہ کے لئے شوہر کے پاس صرف دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا، لہذا آئندہ طلاق کے معاملہ میں خوب احتیاط لازم ہے ۔
کمافی الھندیہ: وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض کذافی الھدایہ(ج1 ص470)۔