اگر کسی کو اپنے قریبی رشتہ دار یا بھائی کی مالی حالت کا یقینی علم نہ ہو، بظاہر وہ مالی اعتبار سے کمزور لگتا ہو یا ماہانہ آمدنی موجودہ مہنگائی کے حساب سے بہت کم ہونے کی وجہ سے اس سے اسکی ضروریات پوری نہ ہوسکے ،بالفرض اس کی آمدنی 40 یا 50 ہزار تک ہو اور اس سے اسکی ضروریات پوری نہ ہوسکے، تو کیا ایسے شخص کو زکوٰۃ کے پیسے ( دل میں نیت کر کے) دینا درست ہے یا نہیں؟
واضح ہو کہ جس کی ملکیت میں ساڑھے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اسکی مالیت کے بقدر مالِ تجارت ، نقدی اور حاجاتِ اصلیہ سے زائد سامان نہ ہو اور وہ سید بھی نہ ہو تو وہ مستحقِ زکوٰۃ ہے، اس کو زکوٰۃ دینا شرعاً جائز ہے، چنانچہ سائل کو اپنی کوشش کی حد تک تتبع و جستجو کے بعد کسی بھائی یا قریبی رشتہ دار کا مستحقِ زکوٰۃ ہونا معلوم ہوجائے، تو ایسی صورت میں سائل کے لئے زکوٰۃ کی نیت سے رقم دے کر ان کی معاونت کرنا نہ صرف جائز ، بلکہ دوہرے ثواب کا باعث ہے، شرعاً ان کی مدد کرنے سے سائل کی زکوٰۃ بھی درست ادا ہوگی۔
کما فی الھندیۃ: أما تفسيرها فهي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله - تعالى - هذا في الشرع الخ ( کتاب الزکوٰۃ ج 1 ص 170 ط: ماجدیۃ)۔
وفیہ ایضاً: والأفضل في الزكاة والفطر والنذر الصرف أولا إلى الإخوة والأخوات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأعمام والعمات ثم إلى أولادهم ثم إلى الأخوال والخالات ثم إلى أولادهم ثم إلى ذوي الأرحام ثم إلى الجيران ثم إلى أهل حرفته ثم إلى أهل مصره أو قريته كذا في السراج الوهاج. الخ ( ج 1 ص 190 ط: ماجدیۃ)۔
مقروض شخص پر زکوٰۃ لازم ہونے اور زکوٰۃ کی رقم سے والد کا قرضہ اتارنے کا حکم
یونیکوڈ مصارف زکوۃ و صدقات 0