لڑکی کی شادی کےلئے اس کی رضامندی ہونا ضروری ہے،لیکن جہاں لڑکی کی رضامندی ہو ،وہ رشتہ درست نہ ہو ، تو والدین کو کیا کرنا چاہیئے؟جب کہ اس کے مقابلے میں ایک اچھا رشتہ بھی موجود ہو۔اگر لڑکا غیر کفو ہو تو اس صورت میں بھی والدین کا زبردستی کرنا کیسا ہے؟کیا اگر لڑکا انتہائی غیر مناسب ہے، تو والدین زبر دستی کر سکتے ہیں؟ اس معاملے کی وضاحت کر دیں۔
واضح ہو کہ بالغہ لڑکی کو اگرچہ شریعت نے اپنی مرضی سے نکاح کرنے کی اجازت دی ہے، اور لڑکی کی صراحۃً یا دلالۃً اجازت کے بغیر والدین وغیرہ کو اُسے نکاح پر مجبور کرنے کا حق نہیں دیا، تاہم کسی جوان لڑکی کو بھی قطعاً یہ زیب نہیں دیتا کہ کہ وہ والدین کے پسند کے رشتہ کو بلاوجہ ٹھکراکر اپنی مرضی اور پسند کے رشتہ کو ترجیح دے، کیونکہ اپنی ناسمجھی اور ظاہر بینی کی بناء پر عموماً ایسے اہم معاملہ کا خود سے فیصلہ کرنے میں کوتاہی ہوسکتی ہے، خصوصاً جب وہ رشتہ غیر کفوء میں نامناسب جگہ ہو، لہٰذا والدین کیلئے اپنی بیٹی کو نامناسب جگہ (غیر کفوء میں) رشتہ کرنے سے منع کرنے کا اختیار حاصل ہے، تاہم والدین کو بھی چاہیئے کہ وہ زور زبردستی کے بجائے اس طرح کے نازک اور اہم معاملہ میں اپنی بیٹی کی پسند اور رضامندی کو بھی ملحوظ رکھتے ہوئے انتہائی احتیاط اور سمجھ بوجھ سے مناسب جگہ رشتہ کرنے کا اہتمام کرنے کی کوشش کریں۔
کما فی الفتاوی الھندیۃ: لا يجوز نكاح أحد على بالغة صحيحة العقل من أب أو سلطان بغير إذنها بكرا كانت أو ثيبا فإن فعل ذلك فالنكاح موقوف على إجازتها فإن أجازته؛ جاز، وإن ردته بطل، كذا في السراج الوهاج اھ (ج1،صـــ287،ط:ماجدیۃ)۔
وفی بدائع الصنائع: الحرة البالغة العاقلة إذا زوجت نفسها من رجل أو وكلت رجلا بالتزويج فتزوجها أو زوجها فضولي فأجازت جاز في قول أبي حنيفة وزفر وأبي يوسف الأول سواء زوجت نفسها من كفء أو غير كفء بمهر وافر أو قاصر غير أنها إذا زوجت نفسها من غير كفء فللأولياء حق الاعتراض اھ (ج2،صـــ247،ط:سعید)۔