اگر لڑکا لڑکی گواہوں کے بغیر ایجاب وقبول کرلیں اور ہمبستری بھی کر لیں اور لڑکی کو حمل بھی ہو جاۓ، تو کیا اب وہ لڑکا لڑکی گواہوں کی موجودگی میں نکاح کر سکتےہیں شرعی طور پر؟ یا پہلے متارکت کریں پھر نکاح کریں؟
واضح ہوکہ شرعاً نکاح کے درست منعقد ہونے کے لئے دو عاقل ،بالغ ، مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عاقلہ بالغہ عورتوں کا مجلسِ نکاح میں بطورِ گواہ کے موجود ہونا اور ایجاب وقبول کو سننالازم ہے ، چنانچہ صورتِ مسؤلہ میں مذکور لڑکا لڑکی نے اولیاء کی اجازت اور رضامندی کےبغیر شرعی گواہان کی عدم موجودگی میں جو نکاح کیا ہے ،یہ نکاح شرعاً درست منعقد نہیں ہوا اور اس نکاح کے بعد جتنا عر صہ میاں بیوی کی طرح ساتھ رہے ہیں دونوں گناہ گار ہوئے ہیں ،لہذا دونوں پر لازم ہے کہ اپنے اس گناہ پر بصدقِ دل توبہ واستغفار کریں اور آئندہ دوبارہ اس قسم کے ناجائز وحرام کاموں سے مکمل اجتناب کریں ،جبکہ مذکولڑکے لڑکی پر لازم ہے یا تو ایک دوسرے سے جدائی اختیار کرلیں اور لڑکا لڑکی کو الفاظ متارکت کہہ کر آزاد کردے ، تاکہ عدت کے بعد عورت دوسری جگہ نکاح کر نے میں آزاد ہو یا پھر اولیاء کی اجازت اور رضامندی سے شرعی گواہان کی موجود گی میں ازسرِنو نکاح کرلیں ،بہردو صورت مذکور حمل ثابت النسب ہو گا ۔
کما فی الدر المختار: (ويجب مهر المثل في نكاح فاسد) وهو الذي فقد شرطا من شرائط الصحة كشهود (الی قولہ) (لكل واحد منهما فسخه ولو بغير محضر عن صاحبه دخل بها أو لا) في الأصح خروجا عن المعصية. فلا ينافي وجوبه بل يجب على القاضي التفريق بينهما (وتجب العدة بعد الوطء) لا الخلوة للطلاق لا للموت (من وقت التفريق) أو متاركة الزوج وإن لم تعلم المرأة بالمتاركة في الأصح الخ (مطلب فی النکاح الفاسد، ج 3، ص 131، ط: سعید)۔
و فی رد المحتار تحت: (قوله أو متاركة الزوج) في البزازية: المتاركة في الفاسد بعد الدخول لا تكون إلا بالقول كخليت سبيلك أو تركتك ومجرد إنكار النكاح لا يكون متاركة. أما لو أنكر وقال أيضا اذهبي وتزوجي كان متاركة والطلاق فيه متاركة لكن لا ينقص به عدد الطلاق الخ (مطلب فی النکاح الفاسد، ج 3، ص 133، ط: سعید)۔
و فی الھدایۃ: ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين الخ (کتاب النکاح، ج 2، ص 5)۔
وفی ردالمحتار: " (قوله في نكاح فاسد) وحكم الدخول في النكاح الموقوف كالدخول في الفاسد، فيسقط الحد ويثبت النسب (مطلب فی النکاح الفاسدج3 ص131 ط:سعید)۔